بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے)کی جانب سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سبی، پنجگور،قلعہ سیف اللہ ،لورالائی ،نوشکی ،نصیرآباد میں عوام کو محفوظ، خالص اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھرپور انسپیکشن اور کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں موبائل ملک سیفٹی ٹیموں اور زونل انسپیکشن ٹیموں نے دودھ، دہی، ریسٹورنٹس، جنرل اسٹورز، بیکنگ یونٹس اور دیگر خوراک کے مراکز کی جامع چیکنگ کی۔جمعہ کو بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ کوئٹہ کے علاقوں نیو سبزل روڈ، ہزارہ ٹان، کچلاک، ایئرپورٹ روڈ اور مغربی بائی پاس میں دودھ کی دکانوں اور کھانے پینے کے مراکز سے سیمپلز لے کر آن دی اسپاٹ ٹیسٹ کیے گئے، جس کے دوران دودھ و دہی میں سکمڈ ملک پاڈر اور پانی کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 4 دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ صفائی و دیگر معمولی نقائص پر 2 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ اسی طرح صفائی کی ناقص صورتحال، مضر صحت رنگوں، پابندی عائد چائنیز نمک اور کیمیکل پرنٹڈ پیپر کے استعمال پر 2 ریسٹورنٹس اور 3 جنرل اسٹورز کو جرمانہ کیا گیا۔کاسی روڈ کوئٹہ میں لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے پر 3 سپر اسٹورز اور ایک نان شاپ کے خلاف کارروائی کی گئی، جہاں زائد المیعاد اشیا، ممنوعہ مصنوعات اور نان فوڈ گریڈ کلرز برآمد ہوئے۔ سبی میں مختلف خوراک کے مراکز کو معمولی نقائص پر اصلاحی نوٹسز جاری کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی ایس او پیز پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔پنجگور میں جاوید کمپلیکس اور خدابادان کے علاقوں میں 2 جنرل اسٹورز کو ایکسپائرڈ اشیا رکھنے پر جرمانہ کیا گیا جبکہ 4 مراکز کو نوٹسز دیے گئے۔ قلعہ سیف اللہ میں 3 ہوٹلز، ایک بریانی شاپ اور 2 ملک شاپس کے خلاف صفائی کی ابتر صورتحال، ملاوٹ اور مضر صحت اجزا کے استعمال پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 5 یونٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری ہوئے۔لورالائی میں بیکنگ یونٹس کے خلاف آلودہ پانی، غیر معیاری رنگوں اور کیمیکل پرنٹڈ پیپر کے استعمال پر کارروائی کی گئی، جبکہ ڈیرہ مراد جمالی میں فوڈ بزنس لائسنس کے بغیر کام کرنے والے متعدد کریانہ اسٹورز اور مصالحہ شاپس کو جرمانہ کیا گیا۔ نوشکی میں بھی ہول سیلرز اور جنرل اسٹورز سے زائد المیعاد اور ممنوعہ اشیا برآمد ہونے پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔بی ایف اے حکام کے مطابق خوراک کے مراکز کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ فوڈ سیفٹی قوانین، صفائی کے اصولوں اور بی ایف اے کے جاری کردہ ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
Comments 0