خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کیلئے نہیں سوچ رہا، عطاء اللہ تارڑ

خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کیلئے نہیں سوچ رہا، عطاء اللہ تارڑ
اسلام آباد (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کے لئے نہیں سوچ رہا، خیبر پختونخوا میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے، وہاں قیمتی جیمز اسٹونز اور ماربل اربوں ڈالر مالیت کے ہیں لیکن ان وسائل کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کوئی موثر نظام موجود نہیں، محمد نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا، ترقی کو گلی محلوں تک پہنچایا، لیپ ٹاپ سکیم اور دانش سکولز کے ذریعے میرٹ پر مبنی تعلیم و تربیت فراہم کی گئی، انہی لیپ ٹاپس کی بدولت کورونا وباء کے دوران ورک فراہم ہوم اور آن لائن تعلیم ممکن ہوئی، دانش سکولز سے فارغ التحصیل طلبہ آج مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، آج سیف سٹی منصوبہ عوام کے تحفظ اور بروقت کارروائی کے لئے موثر ثابت ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کے ہمراہ خیبرپختونخوا یوتھ اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے لئے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سیاست سے وابستگی کے دوران قیمتی تجربات حاصل ہوئے جن کی اپنی ایک قدر ہے، یہ اسباق پوری زندگی عملی میدان میں کام آتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یوتھ اسمبلی کا پلیٹ فارم انتہائی اہم ہے جس کے ذریعے نہ صرف پالیسی سازی کے عمل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے بلکہ دباؤ میں کام کرنے، نئی پالیسیاں مرتب کرنے اور ان پر موثر عمل درآمد جیسے امور سیکھنے کا بھی موقع فراہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو محض تنقید تک محدود رہنے کی بجائے شیڈو کابینہ تشکیل دینی چاہئے اور واضح طور پر بتانا چاہئے کہ ٹیکسوں یا مختلف نظاموں سے متعلق جن مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے انہیں کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ترقیاتی پالیسی کی بنیاد پر سیاست کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نےملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا اور ترقی کو گلی محلوں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مرحلہ وار ترقی کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ترقیاتی سیاست کی بجائے بیانیے کی سیاست آگے آ گئی ہے، سوشل میڈیا پر بیانات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ حقائق کی قدر بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ابتدا میں پرنٹ میڈیا تھا جس کا باقاعدہ ادارتی ڈھانچہ ہوتا تھا جس میں ایڈیٹوریل بورڈ، رپورٹر، بیورو چیف، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف شامل تھے، بعد ازاں اسی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا نے ارتقاء پایا۔ الیکٹرانک میڈیا نے درحقیقت اخباری صحافت سے جنم لیا جس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا گیا اور پیمرا کا قیام عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ارتقائی عمل کے ساتھ ساتھ نیوز چینلز میں ایڈیٹوریل بورڈ، ڈائریکٹرز اور دیگر ادارتی نظام بھی متعارف کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جب ڈیجیٹل میڈیا کا ارتقاء ہوا تو اس کے لئے کوئی باقاعدہ ایڈیٹوریل بورڈ، ایڈیٹر انچیف، رپورٹر، مؤثر ایڈیٹوریل پالیسی یا ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں تھا۔ آج پوری قوم کو ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے متعدد مسائل سامنے آ رہے ہیں جن میں خواتین کو ہراساں کیے جانے، عدم برداشت، تشدد اور دیگر سماجی مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے تاہم بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی مجموعی ترقی کے لئے نہیں سوچ رہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے اور صوبے کے قیمتی جیم سٹونز کی مالیت اربوں ڈالر تک ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ان وسائل کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کوئی موثر نظام وضع نہیں کیا گیا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.