اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے آڈٹ مشاہدات کی بنیاد پر نجی شعبے کے اداروں کے خلاف سیلز ٹیکس کے نوٹس جاری کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ عدالت نے کمشنر ان لینڈ ریونیو (پشاور زون) کی اپیل منظور کرنے سے انکار کر دیا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس منیب اختر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی اختیارات اور فرائض آئین اور 2001 کے آرڈیننس کے تحت صرف وفاق یا صوبے کے قائم کردہ اداروں تک محدود ہیں اور نجی کمپنیوں پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ آڈیٹر جنرل کے مشاہدات کی بنیاد پر کسی نجی ادارے کے خلاف ٹیکس کی وصولی کے اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کی شق 25 میں بیان شدہ دوسرا پروویزو نجی شعبے کے اداروں پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ اس کا اطلاق صرف ان پبلک سیکٹر اداروں پر ہوتا ہے جن کے اکاؤنٹس آڈیٹر جنرل کے تحت آتے ہیں۔ اس کے برعکس، نجی کمپنیوں کے حسابات کا آڈٹ صرف متعلقہ ٹیکس حکام کر سکتے ہیں اور آڈیٹر جنرل کے مشاہدات کی بنیاد پر کارروائی کرنا غیر قانونی ہے۔عدالت نے وضاحت کی کہ جس طرح آڈیٹر جنرل کے دائرہ کار اور اختیارات پبلک سیکٹر اداروں کے لیے مخصوص ہیں، اسی طرح ٹیکس حکام کے اختیارات بھی مختلف اور محدود ہیں۔
جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، اسے بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پہلے بھی اسی نوعیت کے مقدمات میں یہ اصول قائم ہو چکا ہے اور نجی اداروں کے خلاف آڈیٹر جنرل کے مشاہدات پر کسی بھی کارروائی کی قانونی جوازیت نہیں ہے۔اس حکم کے ساتھ ہی کمشنر ان لینڈ ریونیو کی طرف سے دائر CPLA نمبر 663-P/2025 کی درخواست خارج کر دی گئی۔
Comments 0