بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے سرکاری ملازمین کے دیرینہ مطالبات، جن میں ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کی منظوری سمیت دیگر مالی و انتظامی مطالبات شامل ہیں، کے حق میں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہروں میں مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور حکومت سے فوری طور پر مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کوئٹہ میں احتجاج کے دوران ملازمین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ملازمین شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں ڈی آر اے کی منظوری کے باوجود بلوچستان کے ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
احتجاجی مظاہرے صرف کوئٹہ تک محدود نہ رہے بلکہ لورالائی، خضدار، موسیٰ خیل اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ملازمین سڑکوں پر نکل آئے۔ مختلف مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران متعدد ملازمین کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ گرفتاریوں کے بعد ملازمین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر حکومت ملازمین کے جائز مطالبات سننے کے بجائے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
Comments 0