بلوچستان کی سول سوسائٹی کی نکوٹین پاچز کے لیے مجوزہ لازمی معیارات کو مسترد کرنے کا مطالبہ

بلوچستان کی سول سوسائٹی کی نکوٹین پاچز کے لیے مجوزہ لازمی معیارات کو مسترد کرنے کا مطالبہ
بلوچستان کی سول سوسائٹی تنظیموں، بچوں کے حقوق کے کارکنان، نوجوانوں کے نیٹ ورکس اور میڈیا نمائندگان نے وفاقی حکومت کی جانب سے نکوٹین پر مشتمل تمباکو سے پاک زبانی مصنوعات (نکوٹین پاچز) کے لیے لازمی معیارات کو تیزی سے نافذ کرنے کے اقدام کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان حلقوں نے واضح کیا ہے کہ یہ قدم عوامی صحت، بچوں کے تحفظ اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے تجارتی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اجتماعی موقف اختیار کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے نمائندگان نے کہا کہ مجوزہ معیارات ایک ایسے صوبے میں نکوٹین کے استعمال کو معمول بنا سکتے ہیں جو پہلے ہی شدید سماجی و معاشی مسائل، کمزور ریگولیٹری نفاذ اور بچوں و نوجوانوں کی زیادہ کمزوری کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایسی مصنوعات کو باقاعدہ یا قانونی حیثیت دینا، خواہ تکنیکی ضوابط کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، تمباکو سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے بجائے نکوٹین کی لت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔بچوں کے حقوق کے نقط نظر سے کسی بھی ایسی پالیسی کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو ضابطہ کاری کے نام پر نشہ آور مادوں کو جائز قرار دے،میر بہرام لہڑی، کوآرڈینیٹر، چائلڈ رائٹس موومنٹ بلوچستان نے کہابچوں اور نوعمروں کو نکوٹین کی ہر شکل سے محفوظ رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور یہ اقدام اس ذمہ داری کو کمزور کرتا ہے۔انسانی ہمدردی اور سول سوسائٹی کے رہنماں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پالیسی بحث میں برآمدی اعداد و شمار اور صنعت کے بیانیے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ صحت اور سماجی اثرات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔عوامی پالیسی کی بنیاد انسانی فلاح اور عوامی صحت ہونی چاہیے، نہ کہ منڈی کی توسیع،عادل جہانگیر، رکن نیشنل ہیومینٹیرین نیٹ ورک اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایڈ بلوچستان نے کہانکوٹین پاچز کے معیارات کو لازمی بنانا ان کمیونٹیز میں مزید لت کا دروازہ کھول سکتا ہے جہاں صحت کے مثر حفاظتی نظام پہلے ہی ناکافی ہیں۔میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی مبصرین نے نکوٹین کے استعمال کو معمول بنانے کے وسیع سماجی اثرات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔اسے ضابطہ کاری کہنا اس حقیقت کو نہیں بدلتا کہ نکوٹین ایک نشہ آور اور نقصان دہ مادہ ہے،میر بہرام بلوچ، سینئر صحافی اور ای وی اے ڈبلیو اینڈ جی الائنس بلوچستان کے رکن نے کہا۔سماجی سطح پر یہ اقدام خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک خطرناک پیغام دیتا ہے۔نوجوانوں کے احتسابی پلیٹ فارمز نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں کے طویل المدتی نتائج براہِ راست بلوچستان کے نوجوانوں کو بھگتنا پڑیں گے۔نوجوانوں کی آواز کو ایک بار پھر نظرانداز کیا جا رہا ہے،رخسانہ عبدالحق، فوکل پرسن، یوتھ پبلک اکانٹیبلٹی فورم بلوچستان نے کہا۔روک تھام، آگاہی اور صحت مند متبادل میں سرمایہ کاری کے بجائے یہ پالیسی نوجوانوں کو ایک نئی قسم کی لت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔بلوچستان کی سول سوسائٹی تنظیموں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ نکوٹین پاچز کے لیے لازمی معیارات کے نفاذ سے متعلق تمام اقدامات فوری طور پر روکے اور واپس لیے جائیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی صحت سے متعلق فیصلے صنعت کے اثر و رسوخ سے پاک ہوں اور بچوں کے حقوق، نوجوانوں کے تحفظ اور شواہد پر مبنی صحت پالیسی کو ترجیح دی جائے

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.