عورت فانڈیشن کے زیر اہتمام اور اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این وومن اور جرمن سفارت خانے کے تعاون سے بلوچستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے ذریعے صنفی حساس انصاف کو مضبوط بنانے کے عنوان سے پولیس وومن کمیونٹی نیٹ ورک کا اجلاس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں عورت فانڈیشن کی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر یاسمین مغل، یو این وومن کے ٹیکنیکل ماہر دائود ننگیال، ایم اینڈ ای آفیسر فریال احمد، ایڈووکیٹ فاطمہ جہانزیب، پولیس وومن سہولت سینٹر کی انچارج ابشے بشارت سمیت سول سوسائٹی، پولیس اور دیگر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیس وومن کمیونٹی نیٹ ورک کی تشکیل، اس کے کردار، ممبران کی نشاندہی اور ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلی لائحہ عمل طے کیا گیا۔ شرکا نے صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے آگاہی، ریفرل میکنزم اور کمیونٹی کو پولیس اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں سے مثر طور پر منسلک کرنے پر بھی غور کیا۔اس موقع پر شرکا کو عورت فانڈیشن کے کام، کردار اور صوبے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور خواتین کو انصاف تک رسائی فراہم کرنے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ عورت فانڈیشن گزشتہ کئی دہائیوں سے خواتین کے حقوق، قانون سازی، پالیسی سازی اور کمیونٹی سطح پر آگاہی کے ذریعے صنفی انصاف کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔یو این وومن کے نمائندگان نے صنفی مساوات کے فروغ، خواتین کو محفوظ ماحول کی فراہمی اور صنفی حساس انصاف کے نظام کے قیام میں یو این وومن کے کردار پر روشنی ڈالی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ بلوچستان میں خواتین اور بچیوں کو تشدد سے تحفظ، سروسز تک رسائی اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پولیس، کمیونٹی اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے صنفی حساس انصاف کو فروغ دیا جائے گا اور خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔شرکاء کوبتایاگیاکہ بلوچستان پولیس میں جینڈر کے شعبے کے قیام کا بنیادی مقصد پولیسنگ کے نظام میں صنفی حساسیت کو فروغ دینا اور خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف جرائم کی مثر روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔ اس شعبے کے ذریعے صنفی بنیاد پر تشدد، گھریلو تشدد، ہراسانی اور جنسی جرائم کے متاثرین کو ایک محفوظ، باوقار اور دوستانہ ماحول میں انصاف تک رسائی فراہم کی جا سکتی ہے۔
Comments 0