صوبائی وزیر تعلیم بلوچستان راحیلہ حمید خان درانی نے کہا ہے کہ تربت یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نوجوان پاکستان کی حقیقی طاقت اور ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہیں، حکومت تعلیم کے معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے۔تربت یونیورسٹی کے تیسرے سالانہ کانووکیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے والدین، اساتذہ اور پورے مکران و بلوچستان کے لیے فخر و مسرت کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ تربت یونیورسٹی نے انتہائی مشکل حالات میں بھی تعلیمی معیار کو بلند رکھتے ہوئے خطے میں علم کی روشنی پھیلانے کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔صوبائی وزیر تعلیم نے یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے پچھلے سالوں میں تعلیمی پروگراموں کی تعداد 30 سے بڑھا کر 62 کر دی ہے جبکہ ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگراموں کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی میں قائم ہونے والی جدید سمارٹ کلاس رومز، تحقیقی جرائد کی اشاعت اور بین الاقوامی تعاون سے حاصل ہونے والے منصوبوں کو تربت یونیورسٹی کی کامیابیوں کی علامت قرار دیا۔
راحیلہ درانی نے خصوصی طور پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ ان کی انتھک محنت کے باعث یونیورسٹی ایک مستحکم اور معیاری تعلیمی ادارے کے طور پر ابھری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بلوچستان کو آپ کے علم، ہنر اور صلاحیتوں کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی تعلیم کو صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی تبدیلی کا آلہ سمجھیں۔”
انہوں نے خواتین کی تعلیم پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین ہی خاندان اور معاشرے کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔کانووکیشن میں 4 ہزار 600 سے زائد طلبہ و طالبات میں سے نمایاں تعداد میں طالبات نے ڈگریاں حاصل کیں۔ تقریب کے اختتام پر وزیر تعلیم نے تمام فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ اپنی تعلیم اور صلاحیتوں سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا نام روشن کریں۔
Comments 0