میرسرفرازبگٹی/ثنا بلوچ مکالمہ: تربت یونیورسٹی میں مکالمہ سے معذرت پر ثنا بلوچ کی وضاحت آگئی

میرسرفرازبگٹی/ثنا بلوچ مکالمہ: تربت یونیورسٹی میں مکالمہ سے معذرت پر ثنا بلوچ کی وضاحت آگئی
میرسرفرازبگٹی/ثنا بلوچ مکالمہ: تربت یونیورسٹی میں مکالمہ سے معذرت پر ثنا بلوچ کی وضاحت آگئی وزیرِاعلیٰ کے ساتھ مناظرہ — حقیقت کیا ہے؟ ’’وزیرِاعلیٰ کے ساتھ مناظرہ کا کیا ہوا؟‘‘ یہ وہ سوال ہے جو آج تقریباً بلوچستان کا ہر باشعور نوجوان اور بزرگ سوشل میڈیا پر اور ذاتی ملاقاتوں میں مجھ سے پوچھتا ہے۔ میں بارہا یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ مناظرہ اور مکالمہ جمہوری روایت کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے عوام سچ سنتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں اور حکمرانوں کو جواب دہ بنایا جاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت میں نے وقت اور جگہ کے تعین کا اختیار خود حکومتِ بلوچستان کو دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے ابتدا میں BUITEMS کوئٹہ میں مکالمہ کرنے کا عندیہ دیا گیا، اور ہم آج تک اسی پر منتظر ہیں۔ چند روز قبل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وزیراعلیٰ صاحب کی خواہش ہے کہ میں ان کے ساتھ سرکاری جہاز میں تربت جاؤں اور 16 جنوری کو تربت یونیورسٹی میں یہ مکالمہ/مناظرہ منعقد کیا جائے۔ میں نے اس پیشکش سے معذرت کی، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں: اول: میرا سرکاری جہاز میں جانا اور ایسے شہر میں مکالمہ کرنا جہاں انٹرنیٹ بند ہے، نوجوان خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، اساتذہ دباؤ اور ہراسانی میں ہیں، اور صحافی ویسے تو پورے بلوچستان میں اظہارِ رائے کی آزادی سے محروم ہیں، مگر مکران میں حالات کی سنگینی سب کے علم میں ہے— ایسے ماحول میں مناظرہ محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے، حقیقی مکالمہ نہیں۔ دوم: میری معلومات کے مطابق 16 جنوری کو تربت یونیورسٹی میں فارغ‌التحصیل طلبہ و طالبات کی کانووکیشن بھی ہے، جہاں والدین اور طلبہ اپنی خوشی اور تقریبات میں مصروف ہوں گے۔ ایسے موقع پر سنجیدہ سیاسی و آئینی مکالمہ اپنی اصل توجہ حاصل نہیں کر پاتا۔ سوم (سب سے اہم نکتہ): تربت میں ہونے والا یہ مکالمہ بلوچستان اور پاکستان کے اُن طبقات تک نہیں پہنچ پائے گا جو بلوچستان کا سچ سننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ کوئٹہ میں ہونے والا مکالمہ کم از کم سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع تر عوام تک براہِ راست پہنچ سکتا ہے، اور یہی کسی بھی مناظرے کا اصل مقصد ہوتا ہے: عوامی رسائی اور شفافیت۔ لہٰذا مناظرہ اور مکالمے سے متعلق اس وقت تک یہی تازہ صورتِ حال ہے۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ ہر فرد کو الگ الگ جواب دینا ممکن نہیں، اسی لیے یہ وضاحت آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.