کوئٹہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ واپڈا کمپنیوں بالخصوص کیسکو کے غیر قانونی، غیر اعلانیہ اور عوام دشمن اقدامات، بدترین لوڈشیڈنگ، فیڈرز کے خاتمے، بجلی کے انفراسٹرکچر کی تباہی، ایف سی چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل، ایرانی پیٹرول و ڈیزل کے کاروبار کی بندش اور دیگر مسائل کے خلاف پارٹی کی احتجاجی تحریک گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے یکم جنوری کو کوئٹہ، 2 جنوری کو مسلم باغ و دُکی، 5 جنوری کو قلعہ سیف اللہ، 8 جنوری کو ژوب، 9 جنوری کو لورالائی و سنجاوی اور 12 جنوری کو پشین میں بڑے احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے، جن میں عوام نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ واپڈا کمپنیوں اور فیڈرز کی نجکاری، سب ڈویژن دفاتر کی بندش اور غیر اعلانیہ و فورس لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں زرعی فیڈرز کی تعداد 622 ہے، جن سے گھریلو صارفین کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ رجسٹرڈ زرعی ٹیوب ویلوں کی تعداد 27 ہزار 445 تھی، جن کے کنکشن ختم ہونے کے بعد بھی بجلی کی شدید قلت ظاہر کر کے عوام پر بدترین لوڈشیڈنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ واپڈا حکام لائن لاسز چھپانے کے لیے غلط لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں اور متعدد اضلاع میں دیہی فیڈرز کی لائنیں کاٹ دی گئی ہیں۔
نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ گیس پریشر میں کمی، غیر معیاری بلنگ اور پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے ذریعے بلنگ عوام دشمنی اور رشوت خوری پر مبنی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو اس کے کوٹے کے مطابق گیس فراہم کی جائے اور پریشر میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے ایف سی چیک پوسٹوں کو عوام کی تذلیل اور بھتہ خوری کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی پیٹرول و ڈیزل پر پابندی ناقابل قبول ہے، صوبائی حکومت 18ویں ترمیم کے تحت ایران سے معاہدہ کر کے عوام کو سستا ایندھن فراہم کرے۔ تفتان سے کوئٹہ تک فورسز اور اداروں کی جانب سے پیٹرول و ڈیزل پر بھتہ خوری بند کی جائے، جبکہ کسٹمز حکام کے تاجروں کی دکانوں اور گوداموں پر چھاپے اور اشیائے خوردونوش پر پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔
صوبائی صدر نے زرعی ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کم بارشوں اور خشک سالی کے باعث پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، زراعت تباہی کا شکار ہے مگر حکومت کی جانب سے زمینداروں اور کسانوں کے لیے کوئی عملی مدد نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے جنوبی پشتونخوا میں انٹرنیٹ کی بندش کو بھی پشتون دشمنی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ چمن سے باجوڑ تک ڈیورنڈ لائن پر آمدورفت اور کاروبار کی بندش ایک شعوری سازش ہے، جسے ختم کیا جائے اور چمن دھرنے کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیورنڈ لائن پر تجارتی و کاروباری سرگرمیاں بحال کی جائیں۔
نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ ملک میں بجلی کی بڑی پیداوار پشتونخوا وطن کے دریاؤں سے حاصل ہوتی ہے، صرف تربیلا ڈیم سالانہ تقریباً 20 ارب یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے، اس کے باوجود پشتونخوا کے علاقے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خیبر قومی جرگے کے فیصلے کے مطابق سبی سے سوات تک پشتون آبادی کو پانچ روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 18 سے 21 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے عوام کی زندگی مفلوج ہو چکی ہے، کاروبار تباہ، تعلیمی سرگرمیاں متاثر اور مریض شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جبکہ صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پٹرول پمپس کی بندش اور جائز کاروبار پر پابندیوں کو انہوں نے معاشی قتل قرار دیا۔
پریس کانفرنس میں کسٹمز اور ایف سی کی جانب سے تاجروں، ٹرک مالکان اور ڈرائیورز کو ہراساں کرنے اور رشوت لینے کی شدید مذمت کی گئی۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اگر عوام دشمن اقدامات فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دھرنے، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا حق استعمال کیا جائے گا، جس کی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
انہوں نے گرینڈ الائنس کے مطالبات فوری تسلیم کرنے، گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں عوامی زمینوں پر قبضے ختم کرنے، لیویز فورس اور بی ایریاز کی بحالی اور لیویز کو جدید تربیت و اسلحہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
Comments 0