یونیورسٹی آف لندن نے پاکستان میں تعلیم کے معیار کو نئی جہت دی، جدت، اختراع اور نئے ماڈیولز متعارف کرائے، وفاقی وزیر اطلاعات

یونیورسٹی آف لندن نے پاکستان میں تعلیم کے معیار کو نئی جہت دی، جدت، اختراع اور نئے ماڈیولز متعارف کرائے، وفاقی وزیر اطلاعات
اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے یونیورسٹی آف لندن کی پاکستان کے تعلیمی شعبے سے وابستگی اور خلوص کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف لندن نے پاکستان میں تعلیم کے معیار کو نئی جہت دی، جدت، اختراع اور نئے ماڈیولز متعارف کرائے، مسلسل بہتری اور جدت کو اپنانا یونیورسٹی آف لندن کی نمایاں پہچان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے اعلیٰ سطحی وفد کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، جسٹس عائشہ ملک، پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف لندن فل آلمینڈنگر (Phil Allmendinger)، ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے ڈائریکٹر اسامہ ملک، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید، رکن پنجاب اسمبلی آمنہ شیخ، برٹش کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن، یونیورسٹی آف لندن کے ریجنل ہیڈ برائے ساؤتھ ایشیا سعد وسیم، ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی اور یونیورسٹی آف لندن کے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا کہ وہ نہ صرف جامعہ لندن کے سابق طالبِ علم ہیں بلکہ خود کو جامعہ لندن کا اعزازی برانڈ ایمبیسیڈر بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بارہا ایسے باوقار اور علمی اجتماعات سے خطاب کا موقع دیا گیا جس پر وہ دلی طور پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف لندن کا یہ علمی و تعلیمی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے جو وقت کے ساتھ مزید وسعت اور استحکام اختیار کرتا چلا گیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے یونیورسٹی آف لندن کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے بلکہ جدت اور نئے تعلیمی ماڈیولز متعارف کرانے میں بھی پیش پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دورے کے موقع پر ایل ایل بی پروگرام میں ”انٹروڈکشن ٹو پاکستانی لا“ کو بطور ماڈیول شامل کیا گیا تھا جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ لندن کی یہ نمایاں خصوصیت ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران اس میں بہتری اور جدت دیکھنے میں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور نہ صرف پاکستان میں جامعہ لندن کے پروگرامز کے حوالے سے بلکہ عالمی سطح پر ہر گزرتے سال کے ساتھ اس میں مزید بہتری نظر آ رہی ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب وہ قانون کے طالبِ علم کی حیثیت سے تعلیم حاصل کر رہے تھے تو انہیں نہایت ممتاز اور باوقار اساتذہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم تدریسی مراکز غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہی مراکز جامعہ کے سفیر اور پاکستان میں اس کے نمائندے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی نصاب، تحقیق و ترقی اور معیاری تعلیم کی فراہمی اپنی جگہ اہم ہے تاہم اس پورے عمل میں اساتذہ کا کردار بھی نہایت کلیدی ہے، اس لیے فیکلٹی پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ آج اس اجتماع میں ایک فخر کرنے والے سابق طالبِ علم کی حیثیت سے موجود ہیں کیونکہ جامعہ لندن کی یہ ڈگری نہ صرف ان کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنی بلکہ وکالت سے لے کر سول سروس اور اب وزارت کے منصب تک مختلف پیشہ ورانہ مراحل میں انہیں عوام، ملک اور پاکستان میں اپنی کمیونٹی کی خدمت کے لیے بھرپور معاونت فراہم کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں، ان تعلیمی پروگرامز کے مزید فروغ کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہوا حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت پاکستان، حکومت پنجاب، پاکستان بار کونسل اور برٹش کونسل کی جانب سے پہلے ہی نمایاں کام کیا جا رہا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.