سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جسٹس جناب ایوب ترین کے بلوچستان ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور پہ کنفرم نہ کرنے کے فیصلے کی نہ صرف مزمت بلکہ شدید مذمت کرتا ہوں ہمارے ملک میں ہر طرف چھوٹی بڑی نمائندہ اسمبلیاں موجود ہیں ہمارے ارد گرد اوپر نیچے جو حکومتیں اور طاقتیں ہمارے سروں پہ برجمان ہیں اور یہ جو سپریم کورٹ بیٹھی ہے اور یہ جو جوڈیشل کمیشن کے 14 ممبران ہیں ان کی کیا کارستانیاں ہیں 26 اور 27 ویں ائینی ترمیم کے بعد کے واقعات اور ان کے احکامات ، تو ابھی کل ہی کی بات ہے مجھے یقین ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اکثریتی ارکان کبھی جناب جسٹس ایوب ترین سے ملے بھی نہیں ہوں گے یہ اللہ تعالی کی قدرت ہے کہ ان کے پاس اختیار ہے جو چاہے کرے۔
Comments 0