کوئٹہ کی اے ٹی سی عدالت نے بی این پی قیادت کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

کوئٹہ کی اے ٹی سی عدالت نے بی این پی قیادت کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
کوئٹہ کی اے ٹی سی عدالت نے بی این پی قیادت کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ اے ٹی سی کے جج نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ ساجد ترین ایڈووکیٹ کی پیٹیشن پر بلوچستان ہائی کورٹ نے ساجد ترین ایڈووکیٹ اور آغا حسن بلوچ کے خلاف ایف آئی آر کو غیر قانونی قرار دیا۔ چونکہ ایف آئی آر میں تمام ملزمان پر ایک جیسے الزامات ہیں۔ اور چونکہ ہائی کورٹ نے اس ایف آئی آر میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، اس لیے اب اے ٹی سی عدالت اس کیس میں متذکرہ ملزمان ملک نصیر شاہوانی، رمضان بلوچ، غلام نبی مری، شکیلہ نوید، ثنا بلوچ، حورین بلوچ، جہانزیب مینگل، میر مقبول، ولی کاکڑ، علی احمد قمبرانی، ماما قدیر، اقراء بلوچ، علامہ مقصود ڈومکی کو رہا کرنے کی پابند ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل ساجد ترین ایڈووکیٹ کے دلائل کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ساجد ترین ایڈووکیٹ اور آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ کے خلاف ایف آئی آر غیر قانونی، بد نیتی پر مبنی اور اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہیں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.