بلوچستان نیشنل پارٹی کے ممبر سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری، ضلعی انفارمیشن سیکریٹری نسیم جاوید ہزارہ اور ضلعی لیبر سیکریٹری ملک عطااللہ کاکڑ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں گرینڈ الآئنس ملازمین کے گھروں پر چھاپے، چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، گرینڈ الآئنس کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ کرنے اور ان کی چارڈر آف ڈیمانڈ کو تسلیم نہ کرنے اور غیر جمہوری و غیر اخلاقی عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سات مہینوں سے ان ملازمین کو جس طرح ٹارچر کیا جا رہا ہے اور ان کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے احتجاج کو روندھا جا رہا ہے وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج بلوچستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔ اگر بلوچستان کی حکومت عوامی حکومت ہوتی تو وہ عوام کو اس طرح انتقامی کاروائی کا نشانہ نہ بناتے۔ موجودہ حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اگر ان کے پاس اختیار ہوتے اور وہ بلوچستانی عوام کے خیر خواہ ہوتے تو وہ غریب ملازمین کے ساتھ ایسا معاندانہ روش اختیار نہ کرتے۔ آج بلوچستان کی حالت نہایت ہی ناگفتہ بہ ہے سیاسی کارکنان خصوصا خواتین اور طلبا کو قید و بند میں رکھنا، تاجر اور طلباء تنظیموں پر پابندی عائد کرنا، محنت کش ملازمین کے یونینوں پر دباؤ ڈالنا اور بلوچستان کے ہر مکاتب فکر کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا بدترین مارشل لا کی علامت ہے۔ آج بلوچستان کو مکمل طور پر ایک کالونی کی طرز پر چلایا جا رہا ہے جہاں ہر شعبہ زندگی پر ظلم و جبر مسلط کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کے حقوق کی دفاع اور جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی این پی کسی بھی صورت میں عوام اور بالخصوص محنت کشوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور عوامی حقوق کی دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے لئے 1995 کو سردار اختر جان مینگل نے قلات سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کیا تھا اور جب 1997 کو بی این پی حکومت میں آئی تھی تو سرکاری ملازمین کے تمام مطالبات کو من و عن تسلیم کیا گیا تھا۔ لیکن آج بلوچستان میں ایک ایسی حکومت نافذ ہے جو عوام کی بجائے سٹبلشمنٹ کے مفادات کو اپنا مقصد بنایا ہوا ہے۔ ایسے حکمرانوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ لیکن یاد رہے کہ بی این پی ہمیشہ بلوچستان کے باسیوں کے حقوق سمیت یہاں کے ساحل و وسائل کی دفاع کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔
Comments 0