سیٹلائٹ ٹاؤن اور عبداللہ ٹاؤن میں گیس پریشر کی شدید کمی، عوام دوہری اذیت کا شکار
سیٹلائٹ ٹاؤن اور عبداللہ ٹاؤن میں طویل عرصے سے گیس پریشر نہ ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی نے نہ صرف گھریلو امور کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ شدید سردی کے موسم میں شہریوں کے پاس خود کو محفوظ رکھنے کا بھی کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں۔ صبح اور شام کے اوقات میں گیس پریشر مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے جس کے باعث کھانا پکانا، پانی گرم کرنا اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بارہا سوئی سدرن گیس کمپنی کو شکایات درج کروائی گئیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ نہ تو تکنیکی عملہ علاقے کا دورہ کر رہا ہے اور نہ ہی گیس پریشر کی بحالی سے متعلق کوئی واضح ٹائم فریم دیا جا رہا ہے، جس سے عوام میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔
اہلِ علاقہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سنگین مسئلے پر حلقے کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کی خاموشی انتہائی مایوس کن ہے۔ عوام نے جن امیدوں کے ساتھ انہیں منتخب کیا تھا، وہ امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ منتخب نمائندے کی جانب سے نہ تو سوئی سدرن گیس کمپنی سے رابطہ کیا گیا اور نہ ہی اسمبلی کے فلور پر اس عوامی مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھایا گیا۔
شدید سردی کے باعث بچوں، بزرگوں اور خواتین کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔ متبادل ذرائع جیسے لکڑی، ایل پی جی اور بجلی نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ عام شہری کی پہنچ سے بھی باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی گھروں میں مجبوراً غیر محفوظ ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام، سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیٹلائٹ ٹاؤن اور عبداللہ ٹاؤن میں گیس پریشر کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، تکنیکی خرابیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جائے۔ بصورتِ دیگر شہری احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور اگر عوامی مسائل پر اسی طرح عدم توجہی جاری رہی تو عوام کا نظام پر اعتماد مزید مجروح ہوگا۔
Comments 0