زرعی ٹیکس کسان دشمن، کیسکو کی نااہلی، ماحولیاتی بحران نے زراعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاجی تحریک چلائیں گے:زمیندار ایکشن کمیٹی

زرعی ٹیکس کسان دشمن، کیسکو کی نااہلی، ماحولیاتی بحران نے زراعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاجی تحریک چلائیں گے:زمیندار ایکشن کمیٹی
زمیندار ایکشن کمیٹی نے حکومت بلوچستان کی جانب سے نافذ کردہ زرعی ٹیکس، کیسکو کی ناقص کارکردگی اور ماحولیاتی بحران کے تناظر میں زراعت کو درپیش سنگین مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسان دشمن فیصلوں پر فوری نظر ثانی نہ کی گئی تو زمیندار احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ ہفتے کو زمیندار ایکشن کمیٹی کا اجلاس حاجی عبدالجبار کاکڑ کی زیر صدارت مرکزی دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی، جنرل سیکرٹری حاجی عبد الرحمن بازئی، حاجی نور احمد بلوچ، عبدالجبار کاکڑ، حاجی محمد افضل بدوزئی، حاجی کاظم خان اچکزئی، حاجی عزیز سرپرہ، حاجی شیر علی مشوانی، عبداللہ جان میر زئی، ٹکری پار الدین، حاجی محمد رضا ترین، منیر احمد شاہوانی، عزیز مغل، سید صدیق اللہ آغا، حق نواز لانگو، ملک یعقوب شاہوانی، حاجی عبد القدوس اچکزئی، معراج مندوخیل، ڈاکٹر عبد الحکیم، فضل الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک عبد المجید مشوانی کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔  اجلاس میں حکومت بلوچستان کی جانب سے نافذ کیے گئے نام نہاد غیر قانونی زرعی ٹیکس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کے باعث زراعت پہلے ہی شدید نقصان سے دوچار ہے، کھڑی فصلیں تباہ، باغات اجڑ چکے ہیں اور آبپاشی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ زمیندار تاحال مالی بحران سے نکل نہیں سکے۔ ایسے حالات میں زرعی ٹیکس کا نفاذ کسان دشمن اقدام ہے جس سے زراعت کی بچی کھچی سکت بھی ختم ہو رہی ہے۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے زرعی ٹیکس وصولی کے لیے جاری کردہ خطوط پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ ان خطوط میں ابہام پایا جاتا ہے اور بلا تفریق تمام اقسام کی اراضی سے ٹیکس وصولی کی ہدایات دی گئی ہیں، حالانکہ قانون سازی کے دوران زمیندار ایکشن کمیٹی نے اپنی سفارشات باقاعدہ طور پر متعلقہ کمیٹی کو پیش کی تھیں جنہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا، جو مشاورت کے عمل کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بلوچستان کے چھوٹے زمیندار، جن کے باغات میں درختوں کی تعداد 100 سے بھی کم ہے، ان پر زرعی ٹیکس کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے۔ ایسے زمیندار نہ بڑے زمیندار ہیں اور نہ ہی ان کی آمدن اس قابل ہے کہ وہ زمین اور آمدن دونوں پر ٹیکس ادا کر سکیں۔ شرکاء نے سوال اٹھایا کہ جو کسان بمشکل اپنے خاندان کا گزارا کر رہا ہے وہ ٹیکس کہاں سے ادا کرے گا؟ زمیندار ایکشن کمیٹی نے کیسکو (QESCO) کی ناقص کارکردگی پر بھی سخت تنقید کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قلعہ سیف اللہ کے مختلف فیڈرز دولت زئی کا 33 ہزار کے وی ٹرانسفارمر بمعہ تار چوری ہو چکا ہے جبکہ سیب زئی، باتوزئی، اسماعیل زئی اور نیو تنگ حمزہ زئی کے فیڈرز کی مکمل لائنیں چوری کر لی گئی ہیں۔ مسلم باغ اور نسئی کے علاقوں میں 36 کلومیٹر پر محیط 33 ہزار کے وی لائن بھی چوری ہو چکی ہے۔ کشمیر لائن، مرغہ فقیر زئی اور شرن رود جوگیزئی میں بھی تاروں کا مکمل صفایا کیا گیا ہے، تاہم مقدمات کے اندراج کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اجلاس میں الزام عائد کیا گیا کہ گرفتار چوروں کو اثر و رسوخ کے ذریعے رہا کر دیا جاتا ہے، جو کیسکو اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ زرعی کنکشنز کی بڑے پیمانے پر ڈس کنکشن کیے گئے مگر ٹرانسفارمرز اور دیگر آلات تاحال کیسکو نے نہیں اٹھائے، جو ادارے کی مجرمانہ غفلت کا ثبوت ہے۔ اس صورتحال میں کسان نہ بجلی استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی متبادل انتظام کر سکتا ہے، جس کے باعث فصلیں اور باغات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں بلوچستان میں جاری شدید ماحولیاتی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، سینکڑوں علاقے آفت زدہ قرار دیے جا چکے ہیں، اور بارشوں و سیلابوں نے زراعت کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں زرعی ٹیکس کا نفاذ زمینداروں کو سہارا دینے کے بجائے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ زمیندار ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس کے تعین میں اخراجات کو منہا کیا جائے گا یا نہیں، کیونکہ بیج، کھاد، زرعی ادویات، بجلی، پانی، مزدوری اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اخراجات لاکھوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ خالص آمدن چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اگر اخراجات کو شامل کر کے ٹیکس لیا گیا تو زمیندار کے لیے ٹیکس ادا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زرعی ٹیکس کے خلاف زمینداروں کو متحرک کر کے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی نے واضح کیا کہ زمیندار 20 ایکڑ قابلِ کاشت زمین اور 12 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم فکس ٹیکس اور ناقابلِ کاشت اراضی پر کسی قسم کا ٹیکس قبول نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں سے مشاورت کے بغیر کیے گئے فیصلوں پر فوری نظر ثانی کی جائے، کیسکو کی کارکردگی بہتر بنائی جائے اور زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے مختص رقوم فوری طور پر جاری کی جائیں، بصورت دیگر زمیندار ایکشن کمیٹی آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.