تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑی خطہ جس فکری انتشار سیاسی بے سمتی معاشرتی عدم برداشت اور مسلسل تشدد کی لپیٹ میں ہے، محبت کاکا

تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑی خطہ جس فکری انتشار سیاسی بے سمتی معاشرتی عدم برداشت اور مسلسل تشدد کی لپیٹ میں ہے، محبت کاکا
کوئٹہ(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے کہا ہے کہ تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑی خطہ جس فکری انتشار سیاسی بے سمتی معاشرتی عدم برداشت اور مسلسل تشدد کی لپیٹ میں ہے ایسے میں فکرِ باچاخان کی طرف رجوع وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے 26 جنوری کو ضلع حب میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا امن سیمینار باچاخان کی 38ویں اور خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کے موقع پر محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی مکالمہ ہوگا جوموجودہ قومی اور علاقائی بحرانوں کے حل کی سمت رہنمائی فراہم کرے گا آج جب ملک سیاسی عدم استحکام معاشی دباؤ سماجی تفریق اور بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا شکار ہے اور خطہ جنگوں طاقت کی سیاست اور انسانی المیوں سے گزر رہا ہے تو عدم تشدد مکالمے اور انسان دوستی پر مبنی فکرِ باچاخان ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتی ہے فکرِ باچاخان ایک صدی سے زائد عرصے سے انسانی وقار بنیادی حقوق جمہوریت برابری اور پائیدار امن کی جدوجہد کا استعارہ رہی ہے جس نے طاقت کے بجائے دلیل نفرت کے بجائے محبت اور جبر کے مقابلے میں شعور کو ہتھیار بنایاانہوں نے کہا کہ باچاخان نے ایسے دور میں عدم تشدد کا فلسفہ پیش کیا جب تشدد کو طاقت سمجھا جاتا تھا اور انہوں نے قوموں کو یہ شعور دیا کہ علم برداشت رواداری اور سماجی انصاف ہی حقیقی آزادی کی بنیاد ہوتے ہیں خان عبدالولی خان نے اسی فکر کو آئینی جدوجہد جمہوری سیاست اور بین الاقوامی امن کے دائرے تک وسعت دی اور مظلوم اقوام کو یہ پیغام دیا کہ پرامن سیاسی عمل ہی دیرپا حل فراہم کرتا ہے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب مختلف قومیتوں اور طبقات کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں باچاخان اور ولی خان کی فکر پر مبنی یہ امن سیمینار پشتون بلوچ سندھی سرائیکی روشن فکر پنجابی سمیت دیگر اقوام کے درمیان یگانگت بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گا یہ سیمینار اس امر کا اعادہ ہوگا کہ اقوام کا بقا اور خطے کا امن جبر نفی اور طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ شراکت مساوات اور فکری ہم آہنگی میں مضمر ہےانہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس یقین کے ساتھ یہ سیمینار منعقد کر رہی ہے کہ امن کسی ایک قوم یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ مشترکہ انسانی ذمہ داری ہے اگر آج ہم نے فکرِ باچاخان سے سبق نہ سیکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی یہ سیمینار دراصل اس عزم کی تجدید ہے کہ ہم نفرت کے اندھیروں میں بھی امن شعور اور انسانیت کا چراغ روشن رکھیں گے اس سلسلے میں صوبائی اور مرکزی ذمہ داران جلد ضلع حب کے دورے پر روانہ ہوں گے اور سیمینار کے حوالے سے اولسی آگاہی مہم میں شریک ہوں گے

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.