پریس ریلیز۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ
تاریخ: 25 دسمبر 2025: کوئٹہ
گیسٹروانٹرولوجی کے لیے منظور شدہ عمارت کو ٹراما سینٹر بنانے کا فیصلہ غیر سائنسی، غیر قانونی اور عوامی صحت کے مفاد کے خلاف ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ، محکمۂ صحت کی جانب سے کوئٹہ میں ادارۂ امراضِ معدہ، جگرو آنت کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو توڑ پھوڑ کر دوبارہ مرمت کرنے کے بعد، بغیر کسی جامع پالیسی، باقاعدہ سروس اسٹرکچر، واضح طریقۂ کار، تربیت یافتہ عملے اور بنیادی سہولیات کے، ٹراما سینٹر کے طور پر افتتاح کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
پی ایم اے کوۂٹہ کے ترجمان کے مطابق یہ عمارت ادارۂ گیسٹروانٹرولوجی۔ امراضِ معدہ، جگرو آنت کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، منصوبہ بند اور تعمیر شدہ ہے۔ اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ادارہ جاتی منصوبہ بندی، طویل المدتی وژن اور صحت کے نظام کی بنیادی حکمتِ عملی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیار اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے رہنما اصولوں کے مطابق مؤثر ٹراما اور ایمرجنسی سروسز کا قیام ترشری کیئر ہسپتالوں جیسے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال (BMCH) یا سول ہسپتال کوئٹہ (SPH) کے اندر یا ان کے توسیعی نظام کے طور پر کیا جانا لازمی ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر حادثات اور ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر علاج ممکن ہو۔ھسپتالون سے دور اور بغیر انفراسٹرکچر کے قائم کردہ ٹراما سینٹر نہ صرف غیر مؤثر بلکہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اس امر پر بھی شدید افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ محکمۂ صحت میں پالیسی سازی کے عمل میں تکنیکی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے عوام کوصحت کی سھولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کے صحت کے indicators. اشاریے پہلے ہی پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں نہایت تشویشناک اور بعض حوالوں سے عالمی معیار سے پستی تک نیچے ہیں، مگر اس کے باوجود موجودہ حکام کی توجہ صرف غیر ضروری تعمیرات، مرمت اور تزئین و آرائش تک محدود ہے۔ عمارتیں صحت کی سہولیات بہتر نہیں کرتیں، بلکہ ادویات، آلات، تربیت یافتہ عملہ اور مؤثر انتظامی نظام ہی صحت کے نظام کی بہتری کی ضمانت ہوتے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بنیادی سہولیات جیسے سرنج، کینولا اور ایمرجنسی ادویات تک میسر نہیں، جبکہ دوسری جانب تعمیراتی منصوبوں کو ذاتی مفادات اور کاروباری فوائد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو ایک ناکام اور کرپٹ نظامِ صحت کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ محکمۂ صحت بلوچستان میں 80 فیصد سے زائد انتظامی و مینیجریل عہدے اضافی یا قائم مقام (Acting / Additional Charge) بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں، جو ادارہ جاتی کمزوری، ناقص گورننس اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ صورتحال وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور موجودہ حکومت کے اعلانات اور دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتی ہے کہ صحت کے شعبے سے متعلق کوئی بھی پالیسی، منصوبہ یا انتظامی فیصلہ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگا جب تک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اور YDA بلوچستان کو باقاعدہ طور پر مشاورت کے عمل میں شامل نہ کیا جائے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ محکمۂ صحت میں ہر سطح پر میرٹ کے قتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، غیر ضروری اور غیر مؤثر فیصلوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، اور تمام فیصلے بامقصد مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کیے جائیں تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا ہو اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔
بصورتِ دیگر، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ صوبے کی دیگر ڈاکٹر تنظیموں اور ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
ترجمان
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ
Comments 0