اعلامیہ: مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیرِ انتظام تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں کا مشاورتی و عملی نمائندہ اجتماع

اعلامیہ: مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیرِ انتظام تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں کا مشاورتی و عملی نمائندہ اجتماع
‏اعلامیہ: مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیرِ انتظام تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں کا مشاورتی و عملی نمائندہ اجتماع تمام مکاتب فکر کے علماء اور مختلف دینی جماعتوں اور تنظیموں کا یہ اجتماع مندرجہ ذیل امور پر مکمل اتفاق رائے رکھتا ہے : (4) حال ہی میں دستور پاکستان میں ستائیسویں ترمیم انتہائی عجلت میں منظور کی گئی ہے۔ اس ترمیم میں متعدد امور عدلیہ کی آزادی پر قدغن کے حکم میں ہیں، لیکن ایک بات قرآن و سنت سے صراحتاً متصادم ہے اور وہ یہ کہ صدر مملکت اور افواج پاکستان کے بعض اعلی مناصب پر فائز افراد کو نہ صرف ان کی مدت کار میں بلکہ تاحیات ہر قسم کی فوجداری کاروائی سے مکمل استثناء دیا گیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کام چھوڑنے کے بعد بھی زندگی بھر وہ ہر قسم کے مجرم کی باز پرس سے آزاد رہیں گے۔ یہ استثناء قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے جس نے یہ دو ٹوک ہدایت عطا فرمائی ہے کہ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ النساء - 135ترجمہ : اے ایمان والو ! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو ، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ شعار نبوت تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی بی ایم نے غزوہ بدر میں عین حالت جنگ میں خود اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے عہد میں اپنے آپ کو عدالت میں فریق ثانی کے ساتھ مساوی حیثیت میں پیش کر کے بلا امتیاز اور شفاف عدل کا نمونہ پیش کیا۔ ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ” بنیان مرصوص" کے معرکہ میں کامیابی پر افواج پاکستان مبارک باد کی مستحق ہیں لیکن ان کے اعلیٰ مناصب کو استثناء دینا ان کے مناصب جلیلہ کے شایانِ شان نہیں ہے بلکہ کردار پر دھبہ لگانے کے مرادف ہے۔ بفضلہ تعالی ہمارا آئین سن 1973ء سے تمام حلقوں کی طرف سے متفقہ چلا آرہا تھا، ستائیسویں ترمیم کی بناء پر آئین کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے، لہٰذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اس ترمیم کو منسوخ کیا جائے یا قومی مشاورت اور پارلیمنٹ کے اتفاق سے دستور پاکستان کی روح کے مطابق ڈھالا جائے، کیونکہ دستور کسی قوم وملت کا اجماعی میثاق ہوتا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.