کوئٹہ: سینئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ماما قدیر کی وفات نے بلوچستان کے عوام بالخصوص سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لاکھوں سیاسی ورکرز میں ماما قدیر ایک ایسی توانا اور باوقار شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی حقوق کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
علی احمد کرد نے کہا کہ ماما قدیر وہ شخصیت تھے جنہوں نے بلوچستان میں مسنگ پرسنز جیسے انتہائی حساس اور دردناک انسانی المیے کو نہ صرف بھرپور انداز میں اجاگر کیا بلکہ اسے عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ ان کی جدوجہد نے دنیا کو بلوچستان کے عوام کے دکھ درد سے روشناس کرایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ماما قدیر آج ہم میں موجود نہیں رہے اور مٹی تلے جا چکے ہیں، لیکن ان کی سوچ، فکر، سیاسی عمل اور جدوجہد نے بلوچستان کی تاریخ پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ یہی نقوش انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے اور آنے والی نسلوں کو ان کی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتے رہیں گے۔
علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماما قدیر بلوچستان کے ہر درد مند دل میں ہمیشہ احترام اور محبت کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے۔
Comments 0