پاکستان نے سرکاری شعبے کے اکائونٹنگ نظام میں جامع اصلاحات کا آغاز کر دیا

پاکستان نے سرکاری شعبے کے اکائونٹنگ نظام میں جامع اصلاحات کا آغاز کر دیا
محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بین الاقوامی پبلک سیکٹر اکائونٹنگ سٹینڈرڈز کے مطابق ایکروئل بنیادوں پر نئے اکائونٹنگ معیارات کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ، اصلاحات کا مقصد شفافیت، مالی نظم و ضبط اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کو مضبوط بنانا ہے۔ محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 170 کے تحت حاصل آئینی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کے موجودہ نیو اکائونٹنگ ماڈل پر نظرثانی کا آغاز کیاہے، نئے اکائونٹنگ معیارات صدر پاکستان کی منظوری کے بعد نافذ کیے جائیں گے، موجودہ نیو اکائونٹنگ ماڈل 2000ء میں متعارف کرایا گیا تھا جو نقد بنیادوں پر قائم ہے۔ اصلاحاتی عمل عالمی بینک کی تکنیکی معاونت سے کیا جا رہا ہے،اصلاحات کے تحت پاکستان میں پہلی بار سرکاری مالیاتی رپورٹنگ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ(اپساس) IPSAS ایکروئل نظام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ موجودہ اکائونٹنگ فریم ورک گزشتہ دو دہائیوں سے قومی مالیاتی نظام کی بنیاد رہا ہے اور بدلتے عالمی معیارات کے پیش نظر اسے مزید مضبوط اور جدید بنانے کی ضرورت تھی۔ محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق ایکروئل بنیادوں پر اکائونٹنگ نظام کی منتقلی سے حکومتی مالیاتی رپورٹنگ میں نمایاں بہتری آئے گی، نئے نظام کے تحت اثاثہ جات، واجبات، آمدن اور اخراجات کی مکمل اور درست تصویر سامنے آئے گی، اس نظام سے مالیاتی معلومات کے معیار اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا، نظرثانی شدہ اکائونٹنگ فریم ورک وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ نئے نظام سے پورے عوامی شعبے میں یکسانیت، تقابلیت اور مالی شفافیت کو فروغ ملے گا، یہ اقدام سرکاری مالیاتی نظام کی جدید کاری، احتساب، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے ادارے کے عزم کا واضح اظہار ہے۔ محکمہ آڈیٹر جنرل کے مطابق اصلاحات پاکستان کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ مالیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.