اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن(ر)عبدالخالق خان اچکزئی نے بھا رتی ریا ست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی ہٹانے کے شرمناک اور قابل نفرت واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی خاتون کے لباس، حجاب اور ذاتی وقار میں مداخلت نہ صرف انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی آزادی اور خواتین کی عزت نفس پر کھلا حملہ بھی ہے۔اسپیکر نے اس عمل کو طاقت کے غلط استعمال، مسلمانوں کی تذلیل اور خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی عہدہ کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ خواتین کی عزت کو مجروح کرے یا مذہبی شناخت کا تمسخر اڑائے۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ کسی خاتون کے حجاب کو زبردستی ہٹانا بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے عالمی منشور اور مذہبی آزادی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اسپیکر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے رافیل طیارے مار گرائے جانے کے بعد اب بھارت میں مسلمانوں بالخصوص مسلم خواتین کو نشانہ بنانا انتقامی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 70 برس سے زائد عمر کے بوڑھے بھارتی وزیر اعلی کی جانب سے ایسا غیر اخلاقی عمل بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہا ہے۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ واقعے پر غیر مشروط معافی مانگی جائے، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ایسے رویّوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔اسپیکر نے مزید کہا کہ بلوچستان اسمبلی خواتین کے وقار، مذہبی آزادی اور انسانی احترام کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔اس واقعے نے بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے کہ وہ جمہوریت کاعلمبردار ہے، کیونکہ جب ریاستی سربراہ خود اقلیتوں خصوصا مسلم خواتین کی مذہبی شناخت کو مجروح کرے تو یہ ریاستی سرپرستی میں تعصب اور امتیازی سلوک کی واضح دلیل بن جاتا ہے۔
Comments 0