ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست پر سماعت کا دلچسپ احوال !!!
ہم نے سپریم کورٹ کے آرڈر سمیت ریکارڈ لگانا ہے، سینئر وکیل فیصل صدیقی کا وکالت نامہ آیا ہے، وہ آئندہ سماعت پر دلائل دینگے، وقت دیا جائے، ریاست علی آزاد
سپریم کورٹ نے ہمیں درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کا آرڈر کیا ہے، جسٹس اعظم خان
سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کو سن کر فیصلے کا کہا ہے، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ
عدالت کے سامنے تمام ریکارڈ موجود ہے، فیصلہ کیا جا سکتا ہے، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل
اِس کے علاوہ بھی تو ٹرائل چل رہے ہیں اُن میں تو اتنی جلدی نہیں دکھائی جا رہی، فیئر ٹرائل ملزمان کا آئینی حق ہے، موقع دیا جائے، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ
یہ ایک اور تاخیر کی کوشش ہے، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل
کیا ہمیں ریکارڈ پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے؟ اگر ٹرائل کی شرم بھی نہیں رکھنی تو پھر تو یہ ہیں ایمان اور ہادی یہیں ہتھکڑی لگائیں اور گرفتار کر لیں، ریاست علی آزاد
ٹرائل میں استثنیٰ اسی لیے ہوتا ہے کہ ٹرائل متاثر نہ ہو، ایمان عدالت میں موجود نہیں تھیں تو کیا پلیڈر موجود تھا؟ جسٹس اعظم خان
پلیڈر مقرر ہی نہیں ہوا یہاں تک کہ وکیل بھی عدالت میں موجود نہیں تھا، ہادی علی چٹھہ
ایمان مزاری کی درخواست تھی کہ میں بیمار ہوں، سماعت ملتوی کی جائے، ریاست علی آزاد
ملزم یا اُسکے پلیڈر کی غیرموجودگی میں ریکارڈ کی گئی شہادت غیرقانونی ہو گی، علیم عباسی ایڈووکیٹ
ایک دن التواء کی درخواست آ گئی تھی تو اگلے دن کی تاریخ دے دیتے، اُسی دن ہی چار گواہوں کے بیانات غیرموجودگی میں ریکارڈ کیے گئے، جو شہادتیں ملزم کی غیرموجودگی میں ہوں اُن پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ ریاست علی آزاد
آپ کتنے وقت میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کروا لیں گے؟ عدالت کا سرکاری وکیل سے استفسار
جو شہادت ریکارڈ ہوئی ہے وہ قانونی ہے، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل
میرٹس پر سننا ہے تو ہمیں وقت دیں، فیصل صدیقی دلائل دینگے، ریاست علی آزاد
ہم پھر کیس کل کیلئے رکھ رہے ہیں، فیصل صدیقی سے کہیں آ جائیں، جسٹس اعظم خان
کل کیلئے ممکن نہیں ہو گا، پیر یا منگل کا دن رکھ لیں، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ
ہم میرٹس پر نہیں جا رہے، شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا آرڈر کر رہے ہیں، جسٹس اعظم خان
Comments 0