صدر کے پی کے پی ٹی آئی جنید اکبر نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کبھی اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا اور سب سے پہلے ہمارے لیے ان کی صحت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایم این اے عادل بازائی لیفوما میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹرز کے مطابق ان کا علاج بیرون ملک ہوگا۔ جنید اکبر نے کہا کہ وہ آج ایک دو وفاقی وزرا سے بھی ملے لیکن ان کے ہاتھ کھڑے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ اس سب کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہم پر ایف آئی آرز کاٹیں، ہمیں ننگا کریں، اس سے ہمارے دل میں نفرت بڑھے گی، ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس اداروں کا کام لوگوں کو اٹھانا یا لگانا نہیں بلکہ تحفظ فراہم کرنا ہے، سب جانتے ہیں کہ چور لٹیروں کو ہم پر کس نے مسلط کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرو اسٹیبلشمنٹ ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ ہمارے ساتھ رویہ ایسا رکھا جائے، جب تک رویہ تبدیل نہیں ہوگا محبت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے گالیاں کھاتے ہیں تاکہ ورکر اداروں سے نہ لڑیں، لیکن جس دن ورکر اجازت کے بغیر نکل آئے تو پھر آپ کو نہیں چھوڑیں گے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آئیں سب کو بھلا کر آگے بڑھیں، عمران خان بڑے دل کے مالک ہیں سب کچھ معاف کر دیں گے، ملک میں امن تب ہوگا جب ایسا لیڈر ہوگا جس کے پیچھے لوگ کھڑے ہوں۔
جنید اکبر نے کہا کہ اس صورتحال میں نہ وزیر اعظم اسمبلی آتے ہیں اور نہ وزیر داخلہ، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ منتخب ہو کر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یوتھ آپ سے دور ہو چکا ہے اور وہ آپ کو اسی وقت قبول کرے گا جب آپ عمران خان کو قبول کریں گے، آپ عمران خان کو نہیں توڑ سکتے، اگر توڑنا ہوتا تو تین سال میں توڑ لیتے۔ انہوں نے مضبوط پاکستان کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو کسی کی جان لے وہ ان کے نزدیک دہشت گرد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نے خان کو ستایا وہ ذلیل ہوگا، آئیں سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں، چور لٹیروں کو آپ نے ہم پر مسلط کیا ہے اور آپ اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر مزید ایف آئی آرز بن سکتی ہیں، وارنٹ نکل سکتے ہیں، لیکن اگر عمران خان اندھے ہوں گے تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ورکرز کو روک روک کر تھک گئے ہیں، وہ پوچھتے ہیں کال کیوں نہیں دیتے، ہمیں ویڈیوز اور اہل خانہ سے ڈرایا جاتا ہے۔ انہوں نے نصاب اور ماضی کے حکمرانوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کے ماما چاچا نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں دہشت گردی کا حل پی ٹی آئی کے پاس ہے، وہ ساری عمر یہیں رہیں گے اور ریٹائر ہو کر باہر نہیں جائیں گے، اگر عمران خان کو تکلیف دی گئی تو کوئی آپ سے محبت نہیں کرے
Comments 0