پارلیمنٹ کی مضبوطی، شفافیت اور ڈیجیٹل حقوق قومی ترقی کی ضمانت ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کا پاکستان گورننس فورم سے خطاب

پارلیمنٹ کی مضبوطی، شفافیت اور ڈیجیٹل حقوق قومی ترقی کی ضمانت ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کا پاکستان گورننس فورم سے خطاب
اسلام آباد (اے پی پی):سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان گورننس فورم کا قیام شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے سنگ میل ثابت ہوگا، جوابدہی کے عمل کےلئے بہتر گورننس بے انتہا اہمیت کی حامل ہے، گورننس کا آغازہمیشہ گھر سے ہوتا ہے اسی لئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں سنیارٹی ، فٹنس اور ٹیسٹ کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے زیر اہتمام پاکستان گورننس فورم 2026 کے پلینری سیشن بعنوان ’’مؤثر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے لیے پارلیمنٹ کا استحکام‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں کہا کہ مؤثر حکمرانی کی بنیاد مضبوط پارلیمنٹ ہے اور پاکستان کو بدلتی عالمی صورتِ حال میں اپنے ریاستی و جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں اور ٹیکنالوجی حکمرانی کے روایتی ڈھانچوں کو ازسرِ نو متعین کر رہی ہے، ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی پارلیمانی اور انتظامی صلاحیتیں مضبوط کر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔سپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت انتظامی و مالی اختیارات کو شخصی صوابدید سے نکال کر کثیر الجماعتی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیاجس سے شفافیت اور اجتماعی نگرانی کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس اصلاحات کے ذریعے غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ، جدید مہارتوں کا فروغ اور ڈیجیٹل ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ سے کارکردگی میں بہتری آئی، ان اصلاحات سے سالانہ تقریباً 140 ملین روپے کی بچت ہوئی جبکہ مقدمات میں کمی کے باعث مزید مالی بچت بھی ممکن ہوئی۔سپیکر نے بتایا کہ مالی نظم و ضبط کو مضبوط کر کے انٹرنل آڈٹ اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا گیاجس سے مالی سال 2024-25 میں 3.172 ارب روپے کی مجموعی بچت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آرگینوگرام کے نفاذ سے اقربا پروری کی جگہ پیشہ ورانہ معیار آیا، بروقت ترقیوں کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم ہوا جبکہ کلیدی کارکردگی اشاریے اور تربیتی پروگرامز سے سیکرٹریٹ کی استعداد کار مزید بہتر بنائی جا رہی ہے۔ ای سیکرٹریٹ کے نفاذ سے فائلنگ، پروکیورمنٹ، وزیٹر مینجمنٹ اور سکیورٹی کے تمام عمل الیکٹرانک ہو گئے ہیں۔سپیکر نے بتایا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ 2015 سے شمسی توانائی استعمال کر کے دنیا کی پہلی سو فیصد گرین پارلیمنٹ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی صرف داخلی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ مضبوط قانون سازی بھی اس کی بنیاد ہے،پارلیمنٹ نے شفافیت، احتساب اور مالی نظم و ضبط کے لیے متعدد قوانین مضبوط کیے؛ رائٹ ٹو انفارمیشن نے شہریوں کو نگرانی کا اختیار دیا جبکہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ نے مالیاتی نظم کو مؤثر بنایا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.