بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی مبینہ علالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی رویے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتاری کے بعد عزت و احترام دیا گیا اور انہیں چائے پیش کی گئی، جبکہ کلبھوشن یادیو کو بھی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد پاکستانی سرزمین پر گرفتار ہوئے اور جاسوس تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس سابق وزیرِاعظم اور ملک کی مقبول سیاسی شخصیت عمران خان، جنہوں نے آئینِ پاکستان کے تحت حلف اٹھایا، زیرِ حراست ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے، مگر ریاست اس معاملے پر خاموش دکھائی دیتی ہے۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر دشمنوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے اور اپنے رہنماں کو نظرانداز کیا جائے تو یہ قابلِ مذمت امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال ریاست کے اخلاقی معیار پر سوالیہ نشان ہے۔بی این پی سربراہ نے عمران خان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی اور کہا کہ ایک آئینی عہدہ رکھنے والے رہنما کے ساتھ انسانی اور قانونی تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جانا چاہیے۔
Comments 0