زرعی و معاشی پالیسی میں زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کیا جائے

زرعی و معاشی پالیسی میں زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کیا جائے
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف مہنگائی، عالمی معاشی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں ہیں تو دوسری جانب مقامی سطح پر زراعت اور دیہی معیشت کو درپیش سنگین مسائل بھی موجود ہیں۔ حالیہ اجلاس میں State Bank of Pakistan کی زری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ کو **10.5 فیصد پر برقرار رکھنے** کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس کے معاشی اور سماجی اثرات خصوصاً زرعی شعبے اور دور دراز علاقوں کے کسانوں پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں معیشت کا بڑا انحصار زراعت اور لائیوسٹاک پر ہے، وہاں زمینی حقائق کسی حد تک مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بلوچستان کے زمینداروں کو **ٹڈی دل کے حملوں** اور **تباہ کن سیلابوں** نے شدید نقصان پہنچایا۔ ٹڈی دل کے حملوں نے کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا جبکہ سیلاب نے نہ صرف زرعی زمینوں بلکہ آبپاشی کے نظام، باغات اور دیہی انفراسٹرکچر کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں کسان معاشی مشکلات کا شکار ہوئے اور بہت سے علاقوں میں زراعت کی بحالی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔ ایسے حالات میں جب زرعی شعبہ پہلے ہی کمزور ہو چکا ہو، بلند شرح سود کا برقرار رہنا زمینداروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ کسانوں کو بیج، کھاد، ڈیزل اور زرعی مشینری کے لیے قرض لینا پڑتا ہے اور جب شرح سود زیادہ ہو تو یہ اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر چھوٹے زمیندار پہلے ہی مالی وسائل کی کمی کا شکار ہیں، اس لیے ان کے لیے بینکاری نظام سے قرض لینا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ بارشوں کے غیر متوازن پیٹرن، پانی کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی معاشی پالیسیوں میں علاقائی حقیقتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے اور خصوصاً بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ زرعی شعبے کے لیے **کم شرح سود پر خصوصی زرعی قرضے، ٹڈی دل اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی پیکج، اور آبپاشی و زرعی انفراسٹرکچر کی بحالی** جیسے اقدامات کو ترجیح دیں۔ اگر زرعی معیشت کو مضبوط نہ کیا گیا تو نہ صرف دیہی آبادی کی مشکلات بڑھیں گی بلکہ مجموعی قومی معیشت بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ مختصراً یہ کہ معاشی استحکام کی پالیسیوں کو صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر تشکیل دینا ضروری ہے۔ بلوچستان کے زمینداروں کی مشکلات، ٹڈی دل کے حملوں اور سیلابی تباہی جیسے عوامل کو نظرانداز کرنا مستقبل میں زرعی پیداوار اور دیہی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں ایک متوازن اور جامع پالیسی ہی ملک کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.