کوئٹہ کی بند نالیاں اور شہری اذیت: بارش رحمت سے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟

کوئٹہ کی بند نالیاں اور شہری اذیت: بارش رحمت سے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟
کوئٹہ شہر میں حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ بارش کا پانی جہاں ٹھنڈک اور رحمت کا پیغام لاتا ہے، وہیں کوئٹہ کی گلیوں اور سڑکوں پر یہی پانی گندے نالوں کے ساتھ مل کر عوام کیلئے شدید مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔ بند نالیوں اور ناقص نکاسی آب کے نظام کے باعث گندا پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک متاثر ہوتی ہے بلکہ شہریوں کی صحت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں نکاسی آب کا نظام پرانا، ناکافی اور غیر فعال ہو چکا ہے۔ نالوں کی بروقت صفائی نہ ہونے، کچرے کے بے ہنگم ڈھیر اور شہریوں کی جانب سے صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ نتیجتاً بارش کے چند گھنٹوں بعد ہی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں اور سیوریج کا گندا پانی گھروں اور دکانوں تک داخل ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف روزمرہ زندگی کو مفلوج کرتی ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی باعث بنتی ہے۔ تعفن زدہ پانی، مچھروں کی افزائش اور آلودہ ماحول بچوں، بزرگوں اور عام شہریوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور شہریوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہر سال یہی صورتحال کیوں دہرائی جاتی ہے؟ کیا متعلقہ ادارے بارشوں سے قبل پیشگی اقدامات نہیں کر سکتے؟ حقیقت یہ ہے کہ منصوبہ بندی کا فقدان، وسائل کا غیر مؤثر استعمال اور ادارہ جاتی غفلت اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اگر بروقت نالوں کی صفائی، کچرے کی مناسب تلفی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری پر توجہ دی جائے تو اس مسئلے کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال کا حل صرف وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے شہر کے نکاسی آب کے نظام کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اہم نالوں کی توسیع، نئی ڈرینج لائنز کی تنصیب اور پرانے نظام کی مرمت ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کو فعال اور جوابدہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔ عوامی شعور بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ کچرا نالوں میں پھینکنے سے گریز کریں اور صفائی کے اصولوں کی پابندی کریں۔ حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی تعاون کے بغیر اس مسئلے کا دیرپا حل ممکن نہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کوئٹہ جیسے اہم شہر میں نکاسی آب کا مؤثر نظام نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ہر بارش شہریوں کیلئے عذاب بنتی رہے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ متعلقہ حکام سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالیں تاکہ شہریوں کو ایک صاف، محفوظ اور قابلِ رہائش ماحول فراہم کیا جا سکے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.