کوئٹہ کی سڑکیں، گرد و غبار اور بڑھتے امراض — انتظامیہ کب جاگے گی؟

کوئٹہ کی سڑکیں، گرد و غبار اور بڑھتے امراض — انتظامیہ کب جاگے گی؟
کوئٹہ شہر اس وقت ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کھودی گئی سڑکوں، ادھورے کام اور گرد و غبار کے بادلوں میں گھرا ہوا ہے۔ مختلف شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جگہ جگہ کھدائی، نامکمل پیچ ورک اور ناقص مینجمنٹ نے نہ صرف ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا ہے بلکہ شہریوں کی صحت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ شہر کی اہم شاہراہیں جیسے سریاب روڈ، سبزل روڈ اور ایئرپورٹ روڈ طویل عرصے سے زیر تعمیر ہیں۔ ان سڑکوں پر دن بھر گاڑیوں کی آمدورفت سے اٹھنے والی گرد و غبار فضا کو آلودہ کر رہی ہے۔ خشک موسم اور پانی کے چھڑکاؤ کا مؤثر انتظام نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق گرد آلود ماحول میں سانس لینے سے دمہ، الرجی، آنکھوں اور گلے کی بیماریاں تیزی سے بڑھتی ہیں۔ کوئٹہ پہلے ہی موسمی شدت اور ماحولیاتی مسائل کا شکار شہر ہے، ایسے میں ترقیاتی کاموں کے دوران حفاظتی اقدامات نہ کرنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ شہری شکایت کرتے ہیں کہ تعمیراتی مقامات پر نہ تو باقاعدہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ٹریفک کے متبادل راستوں کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبے عوام کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں تو پھر انہیں تکمیل تک پہنچانے میں تاخیر کیوں؟ کیا متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کا فقدان ہے یا نگرانی کا نظام کمزور پڑ چکا ہے؟ ٹھیکیداروں کو مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کا پابند کیوں نہیں بنایا جاتا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں۔ تعمیراتی مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے، کام کی رفتار تیز کی جائے اور شہریوں کو پیشگی آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ متبادل راستوں کا انتخاب کر سکیں۔ ساتھ ہی ماحولیاتی اور صحت کے تحفظ کو ہر منصوبے کا لازمی جزو بنایا جائے۔ ترقی کا عمل خوش آئند ہے، مگر ایسی ترقی جو شہریوں کی صحت، سکون اور روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دے، اس پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ کے باسی صاف فضا اور ہموار سڑکوں کے حق دار ہیں — محض وعدوں کے نہیں بلکہ عملی اقدامات کے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.