پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک بار پھر عوامی زندگی پر بھاری بوجھ بن کر سامنے آیا ہے۔ اپریل 2026 میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 458 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو چند ہی ہفتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ حکومت اس اضافے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑتی ہے، جہاں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرچکی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف عالمی قیمتیں ہی اس بوجھ کی ذمہ دار ہیں یا اندرونی معاشی پالیسیوں کا بھی اس میں بڑا کردار ہے؟
اگر عالمی اور مقامی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو تصویر مزید واضح ہوتی ہے۔ کئی ممالک جیسے سعودی عرب، قطر اور ملائیشیا میں پیٹرول کی قیمت پاکستان سے نمایاں کم ہے، جہاں فی لیٹر قیمت تقریباً 0.5 سے 0.6 ڈالر ہے، جبکہ پاکستان میں یہی قیمت 0.9 ڈالر سے زائد رہی۔ اس فرق کی بڑی وجہ ٹیکسز، لیویز اور درآمدی انحصار ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مقامی سطح پر شدید مہنگائی کا باعث بنتا ہے۔ مزید برآں روپے کی قدر میں کمی، پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس بھی قیمتوں کو عوام کی پہنچ سے دور کر دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی منڈی کا دباؤ اپنی جگہ، مگر عوامی مشکلات میں اضافے کی بڑی وجہ داخلی معاشی کمزوریاں ہیں۔ دیگر ممالک سبسڈی یا قیمتوں کے استحکام کے ذریعے عوام کو ریلیف دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بار بار قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے طوفان کو مزید تیز کر دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ زندگی کے اخراجات براہ راست متاثر ہوتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صرف عالمی حالات کا حوالہ دینے کے بجائے ایک جامع پالیسی اپنائے، جس میں متبادل توانائی، مقامی وسائل کا استعمال اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہوں، تاکہ مہنگائی کے اس دائرے کو توڑا جا سکے۔
Comments 0