صوبائی وزیر منصوبہ بندی وترقیات میر ظہور احمد بلیدی کی زیر صدارت بلوچستان فشریز اینڈ ایکواکلچر ترمیمی بل 2025 کو حتمی شکل دینے کے لیے کابینہ سب کمیٹی کا تیسرا مسلسل اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں اجلاس میں رکن اسمبلی مولاناہدایت الرحمن بلوچ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم ودیگر نے شرکت کی ۔اجلاس میں مجوزہ قانون سازی کے اہم نکات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بل کا مقصد صوبے کے ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے بلیو اکانومی کے جامع فریم ورک میں تبدیل کرنا ہے۔اجلاس میں بی سی ڈی اے ایکٹ اور پسنی فش ہاربر اتھارٹی آرڈیننس کو منسوخ کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا، تاہم متعلقہ اداروں کے ملازمین کے مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ مجوزہ ترامیم کے تحت نئے ڈائریکٹوریٹس کے قیام، وی ایم ایس (ویسل مانیٹرنگ سسٹم)اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے نفاذ پر بھی غور کیا گیا تاکہ ماہی گیری کے عمل کی موثر نگرانی ممکن ہو سکے۔بل میں غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور بے ضابطہ ماہی گیری (IUU Fishing) کے خلاف سخت کارروائی، فشریز کورٹس کے قیام، زیادہ سے زیادہ پائیدار پیداوار (MSY) کی بنیاد پر فش اسٹاک کی بحالی، ایکواکلچر کے فروغ، ہاربرز کے باہمی انضمام اور برآمدی سرٹیفکیشن کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔مزید برآں، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے فشرز ویلفیئر فنڈ کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مجوزہ قانون سازی کے ذریعے بلوچستان کے ماہی گیری کے شعبے کو جدید، شفاف اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے گا تاکہ صوبے کی معیشت اور ساحلی آبادیوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
Comments 0