ویانا (اے پی پی):نائب وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف غربت، عدم مساوات، وسائل کی قلت اور ان کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں، پاکستان تمام شراکت داروں سے مل کر ایسے مستقبل کےلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے جہاں امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ویانا میں”پائیدار ترقی: عالمی امن اور خوشحالی کےلئے راستے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، ویانا میں میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے سربراہوں اور سفارتکاروں نے شرکت کی۔
نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ ویانا میں اقوامِ متحدہ کے آفس میں اس اجتماع سے خطاب کرنا میرے لئے باعثِ اعزاز ہے، یہ شہر اپنی شاندار سفارتی روایات اور کثیرالجہتی مذاکرات میں فعال کردار کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ انہوں نے ویانا میں قائم بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص آئی اے ای اے، یونیڈو، یو این او ڈی سی اور یو این او او ایس اے کی قیادت اور مسلسل شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا غیر یقینی اور تیز رفتار تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے آپ کا کردار مزید اہم اور چیلنجنگ ہوچکا ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتا ہے اور عالمی امن، سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ میں اقوامِ متحدہ کے ناگزیر کردار کو تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں اقوام متحدہ کو ایک کثیر قطبی دنیا اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مزید مضبوط، مناسب وسائل سے آراستہ اور جامع اصلاحات سے گزرنا چاہیے، آج ہم یہاں ایک بنیادی حقیقت پر گفتگو کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں، مشترکہ ترقی امن کے بغیر پائیدار نہیں ہوسکتی اور امن مشترکہ ترقی کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتا، یہی اصول پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈا کی تشکیل اور منظوری کی بنیاد بنا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف غربت، عدم مساوات، وسائل کی قلت اور ان کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں، ویانا میں قائم اقوامِ متحدہ کی تنظیموں کے مینڈیٹ امن اور ترقی کے اس باہمی تعلق سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان عالمی حکمرانی کے ان ستونوں کے ساتھ اپنی تعمیری شمولیت پر فخر کرتا ہے۔
نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ ویانا میں قائم اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے منفرد مینڈیٹس بھی اسی امن و ترقی کے ربط سے وابستہ ہیں، اسی لئے پاکستان ان اہم اداروں کے ساتھ اپنے فعال اور مثبت کردار کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی امن اور ترقی کےلئے ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے کردار کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی کے فروغ اور ان جرائم کے انسداد کےلئے جو ترقیاتی وسائل کو نقصان پہنچاتے ہیں، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائےانسداد منشیات و جرائم کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کےلئے بھی پرعزم ہیں، جامع اور پائیدار صنعتی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر یونیڈو پاکستان کی غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع میں اضافے اور صاف و مضبوط صنعتوں کی جانب منتقلی کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کےلئے خلائی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور کی حمایت کرتا ہے تاکہ بیرونی خلا تمام ممالک کےلئے ایک پائیدار اور منصفانہ میدان بنا رہے۔
انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی نظام، اقوامِ متحدہ اور عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، ماحولیاتی اقدامات، غربت کے خاتمے، صحت، انسانی حقوق ، منشیات، جرائم، بدعنوانی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہماری اجتماعی وابستگی کی عکاس ہے۔ نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے مستقبل کے لیے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے جہاں امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
Comments 0