بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہے، پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھا چکا ہے، صدرمملکت آصف علی زرداری

بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہے، پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھا چکا ہے، صدرمملکت آصف علی زرداری
اسلام آباد۔(اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے جنگ کو آخری حل قرار دیتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت وتوہین آمیز شکست کے لیے تیار رہے، صدرمملکت نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خودمختاری کا تحفظ ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معاشی استحکام کو مزید مستحکم بناناہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔پیرکو نئے پارلیمانی سال کے آغازپرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے سالانہ خطاب میں صدرمملکت نے کہاکہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ بحیثیت دو مرتبہ منتخب صدر انہوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر اس معزز ایوان سے نویں مرتبہ خطاب کیا، ہر خطاب ہمارے جمہوری نظام کے تسلسل اور پاکستان کے عوام کے نمائندوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریوں کی یاد دہانی ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ اقوام کا امتحان صرف بحرانوں میں نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، گزشتہ سال نے ہمیں یاد دلایا کہ ہماری جمہوریت کی طاقت آئین، عوام کی استقامت، پارلیمنٹ و حکومت کی ذمہ داریوں اور ہماری مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی استقامت کو بنیاد بنا کر اپنی خودمختاری کا تحفظ، آئینی حکمرانی کو مضبوط اور معاشی تبدیلی کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ استحکام ترقی میں ڈھل کر ہر شہری کے لیے خوشحالی، پیش رفت اور امن کا ذریعہ بنے۔صدر مملکت نے کہاکہ آج ہم ان بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی تاریخ کے معماروں نے رکھیں، قائداعظم محمد علی جناح نے آئین اور قانون کی حکمرانی پر مبنی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی قربانی اور مثالی قیادت کے ذریعے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔صدر مملکت نے کہاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی پران کا یقین صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ظاہر ہے،اپنے سابقہ دورِ صدارت میں میں نے یکطرفہ طور پر وہ اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے جو 1973ء کے آئین کے مطابق اسی کے تھے۔ تاریخی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آج ایوان صدر وفاق کی وحدت کی علامت، وفاقی اکائیوں کے درمیان پل اور آئینی قوانین کا محافظ ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ گزشتہ دس ماہ قوم کے لیے گہرے اور پیچیدہ امتحان کا سبب بنے، جب بھی ہماری خودمختاری کو مشرقی یا مغربی سرحد پر چیلنج کیا گیا، پاکستان نے حکمت، تحمل اور پختہ عزم کے ساتھ جواب دیا۔ بلااشتعال حملوں کے جواب میں ہماری مسلح افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، معرکہ حق میں ہماری مسلح افواج نے بھارت کے حملے کو ایک تاریخی تزویراتی فتح میں بدل دیا،مغربی سرحد پر جب 26 فروری کی رات طالبان حکومت کی جانب سے حملوں کا سلسلہ بڑھایا گیا تو ہماری سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ ہماری خودمختار سرزمین پر کسی بھی دراندازی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، سیاسی قیادت متحد رہی، عوام ثابت قدم رہے، میں آغاز ہی میں اپنی قوم کے جانباز محافظوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہی کی بدولت ہم سب آج محفوظ ہیں، ان کامیاب عسکری معرکوں میں، چاہے وہ مختصر ہوں یا طویل، ہماری فوج، فضائیہ، بحریہ، رینجرز، فرنٹیئر کور، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی قربانیوں کو صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہید ایک ایسا خاندان چھوڑتا ہے جس نے پاکستان کے استحکام کے لیے عظیم قربانی دی۔صدر مملکت نے کہاکہ جب وہ شہداء کے خاندانوں سے ملتے ہیں تواانہیں وہی درد محسوس ہوتا ہے جوانہوں نے اپنی اہلیہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت محسوس کیا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خاندانوں کی عزت و وقار کے ساتھ کفالت جاری رکھے،2025ء پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا جب معرکہ حق میں شاندار عسکری کامیابی نے بیرونی جارحیت کو پسپا کیا اور روایتی برتری کے تاثر کو توڑ دیا۔ یہ صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ قومی عزم کا اظہار تھا۔ ہم نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی۔صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے منصفانہ حقِ خودارادیت کی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، جنوبی ایشیا اس وقت تک مکمل امن نہیں پا سکتا جب تک کشمیری عوام آزادی حاصل نہ کر لیں،اگر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو اسے ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے تاہم میرا مشورہ ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز کا راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ یہی علاقائی سلامتی کا واحد راستہ ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، ہم اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں، مگر ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر کسی ریاست کو مسلسل حملے برداشت نہیں کرنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ہم نے اپنی صلاحیتوں کا صرف ایک حصہ ظاہر کیا ہے،ہماری سرزمین مقدس ہے۔ ہم کسی بھی ملک یا گروہ کو اپنی سرزمین یا پڑوسی علاقوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ صدرمملکت نے کہاکہ ہم ایران پر جاری جنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس کے خودمختاری و علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح خلیجی برادر ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ خطے میں استحکام اور بین الاقوامی قانون کا احترام ناگزیر ہے،ہم ان تمام ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نئی جہتیں پیدا ہوئی ہیں جبکہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔ سی پیک 2.0 پاکستان کے انفراسٹرکچر میں انقلاب لائے گا۔صدر مملکت نے کہاکہ ہم فلسطینی عوام کے حق میں اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق دارالحکومت القدس الشریف پرمشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ صدر مملکت نے کہاکہ آبی تحفظ ایک اہم تزویراتی مسئلہ بن چکا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم اپنے آبی حقوق کا ہر فورم پر دفاع کریں گے۔وفاق کی مضبوطی مرکزیت سے نہیں بلکہ ہم آہنگی سے آتی ہے، مشترکہ مفادات کونسل جیسے آئینی فورمز کو فعال بنانا ہوگا۔ بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ اور مقامی آبادی کو ترقی میں شریک کرنا ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام قومی سلامتی سے جڑا ہے۔ ہمیں ٹیکس نیٹ بڑھانا، توانائی اصلاحات، زرعی ترقی اور موسمیاتی انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ معاشرے کے نچلے طبقے کو بااختیار بنایا جا سکے، خواتین کی ترقی کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو تحفظ، ڈیجیٹل رسائی اور معاشی خودمختاری فراہم کرنی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ سلامتی، معیشت اور آئینی حکمرانی باہم مربوط ستون ہیں۔ ہمیں خودمختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے، معاشی ترقی، وفاقی ہم آہنگی اور جمہوری استحکام کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس امانت کی ادائیگی میں کامیاب فرمائے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.