اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں توشہ خانہ اور سائفر اپیل سے متعلق اہم سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی اپیل میں سزا معطل ہو جائے تو پھر قانونی طور پر کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہنی چاہیے، حتیٰ کہ انتخابات میں حصہ لینے میں بھی نہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر سزا معطل ہو جائے تو کیا ملزم جیل میں رہے گا یا آزاد ہوگا؟ جس پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ سزا معطل ہونے پر شخص آزاد ہوتا ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں Islamabad High Court کے دو رکنی بینچ نے سزا معطل کی تھی تاہم اپیل پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اور اسی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطل ہونے کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے سے روکا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ کیا اپیل پر فیصلہ نہیں ہوا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ اپیل تاحال زیرِ التوا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت سے تفصیلی فیصلہ جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا کی، جس پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے کیس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر بھی روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ انہیں اس کیس میں نوٹس نہیں ہوا، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر ضرورت ہوئی تو نوٹس جاری کر دیا جائے گا تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ اپیل قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔ادھر سپریم کورٹ میں ایک اور پیش رفت میں پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کے خلاف دائر تینوں درخواستیں واپس لے لیں، جس کے بعد عدالت نے انہیں نمٹا دیا۔ یہ مقدمات زمین کے حصول میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال سے متعلق تھے اور لاہور، اکاڑہ اور ڈی جی خان میں درج کیے گئے تھے۔
Comments 0