وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت امن کے قیام، نوجوانوں کو مواقع کی فراہمی اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کیلئے پرعزم ہے، جبکہ عام شہریوں کے قتل میں ملوث عناصر سے کوئی مفاہمت نہیں ہوگی،صوبے کو درپیش چیلنجز کا حل تشدد یا بندوق کی سیاست میں نہیں بلکہ آئین، سیاسی مکالمے اور اجتماعی دانش میں مضمر ہے۔ ریاست اور بلوچستان کے عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ صوبے کے عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں امن و امان پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بحیثیت بلوچ وہ پاکستانی پولیس، ایف سی، آرمی اور خاص طور پر عام معصوم شہریوں کا جو خون بہایا گیا ہے، اس پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔ انہوں نے لواحقین کو یقین دلایا کہ وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی اسمبلی ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے ایک منظم انداز میں کنفیوژن پیدا کیا گیا اور ریاست اور بلوچستان کے عوام و نوجوانوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر عام شہریوں، مردوں، خواتین اور بچوں کو قتل کرتے ہیں، ان کے ہمدرد اس قتل عام کو محرومیوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ جن مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے وہ پورے ملک کو درپیش ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں 11 اراکین پہلی بار منتخب ہو کر آئے ہیں جبکہ دیگر اراکین دوسری یا تیسری مرتبہ منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سردار فارم 47 کا الزام لگا دیتا ہے، لیکن دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی کو ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کچھ علاقوں میں ترقی کا فرق ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بندوق اٹھا لی جائے؟انہوں نے کہا کہ 2022 میں پنجگور اور نوشکی کے بارڈرز کھلے تھے، اس کے باوجود دہشتگردی کے واقعات ہوئے۔ لاہور میں کسی معاہدے کا ذکر کیا جا رہا تھا، تاہم 1973 کے آئین کے بعد کسی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، آئین ہی وہ واحد دستاویز ہے جو ہم سب کو جوڑتی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنا ہوگا کہ کیا بلوچستان تشدد سے آزاد ہو سکتا ہے؟ کیا کشت و خون کے سوا تشدد سے کچھ حاصل ہوا ہے؟ کیا تشدد سے کوئی یونین کونسل بھی آزاد ہو سکی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس تشدد میں کتنے بلوچ نوجوان شہید ہوئے اور گوادر میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ آئین کے بعد نیشنل ایکشن پلان ہمارا سب سے اہم دستاویز ہے۔ انہوں نے ایوان سے ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار کہا ہے کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو قیادت کریں، وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن ان عناصر سے بات نہیں ہوگی جو عام شہریوں کو قتل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہید قریشی کے والدین سے ملے جن کا بیٹا بلوچستان کے بارڈر پر شہید ہوا۔وزیراعلی نے کہا کہ گوادر میں 66 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں اور یہ پہلا ضلع ہے جہاں کوئی اسکول بند نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسی ایوان نے 18ویں آئینی ترمیم اور آغازِ حقوق بلوچستان پیکج دیا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس نواز مری کو ہائی کورٹ اور اسمبلی کے سامنے بے دردی سے شہید کیا گیا، جبکہ بعض عناصر 2018 کے انتخابات میں بھی حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں بی ایل اے سے وابستہ افراد کو جیلوں سے رہا کیا گیا۔ اسمبلی کی سفارش پر ایف سی کی چیک پوسٹیں بھی ختم کی گئیں اور اپریزمنٹ کا سلسلہ جاری رہا۔انہوں نے کہا کہ 1947 میں کیا صرف بلوچ اور پشتون تقسیم ہوئے تھے؟ کیا پنجابی اور سندھی تقسیم نہیں ہوئے؟ بین الاقوامی قوانین کو مذاق بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک کروڑ کی آبادی والے صوبے میں بشیر زیب کی کال پر کتنے لوگ ساتھ ملے؟وزیراعلی نے کہا کہ 1971 کے انتخابات کو شفاف قرار دیا جاتا ہے، مگر کیا سردار عطا اللہ مینگل اکیلے حکومت بنا سکے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہم محبت کرنے والے لوگ ہیں اور جو محبت و احترام کرے گا ہم بھی اس کے ساتھ احترام سے پیش آئیں گے۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ بلوچستان کی محرومیوں اور تشدد کو الگ الگ رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ بی آر ٹی منصوبے کے لیے 14 بین الاقوامی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچ تاریخ میں کبھی خواتین کو استعمال نہیں کیا گیا، مگر اب انہیں خودکش جیکٹس پہنائی جا رہی ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے بحیثیت بلوچستانی تمام سکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز کو سہولیات فراہم کرنا اسی پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں عام شہریوں کی فکر نہ ہوتی تو دہشتگردوں کو دس منٹ میں جواب دے دیا جاتا، مگر فورسز ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں کیونکہ دہشتگرد عام لوگوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 کا بیانیہ محض پروپیگنڈا ہے، اگر ایسا ہوتا تو عدالتیں فیصلہ کر چکی ہوتیں۔ یہی ریاستی میکنزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، اور بلوچ نوجوانوں کو اس لاحاصل جنگ سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔
Comments 0