بلوچستان نیشنل پارٹی کے ممبر سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی غلام نبی مری اور نسیم جاوید ہزارہ نے بی این پی قلعہ سیف اللہ کے ضلعی صدر عین الدین کاکڑ کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور بی این پی ضلع لورالائی کے صدر ہاشم خان اتمان خیل کی گرفتاری سمت دیگر تمام سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کال پر عوام کی جانب سے کامیاب پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال عوامی ریفرنڈم تھا جس کے توسط سے عوام نے 8 فروری 2024 کے الیکشن میں عوامی حق رائے دھی پر ڈاکہ ڈالنے اور فارم 47 کے تحت جعلی ممبران کو اسمبلیوں میں لانے کے عمل کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کامیاب ہڑتال سے حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی اور نہتے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے جہاں سیاسی کارکنوں کی آواز کو بزور طاقت دبائی جا رہی ہیں، عدلیہ اور میڈیا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، آئین کو معطل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں شدید مایوسی اور احساس محرومی جنم لے رہی ہیں اور یہی احساس محرومی عوام کے دلوں میں حکومت سے نفرت کا جذبات کو ابھارنے کا سبب بنے گی اور ان کا اعتماد حکومت سے اٹھ جائے گا حکومت اور سٹبلشمنٹ بروقت اپنی عوام دشمن پالیسیاں تبدیل نہیں کریں گے تو عوامی رد عمل کا راستہ روکنا مشکل ہوگا۔
Comments 0