بلوچستان اسمبلی نے 31جنوری کو مختلف مقامات پر دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ طورپر مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کرلی ۔بدھ کے روز بلوچستان اسمبلی کااجلاس اسپیکر کیپٹن (ریٹائرڈ )عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر مواصلات میر سلیم احمد کھوسہ نے مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہاگیاہے کہ 31 جنوری 2026 کو خوارج فتنہ الہندوستان سے وابسطہ دہشت گردوں نے اپنے گرتے ہوئے مورال کو سہارا دینے کے لئے بلوچستان کے مختلف شہروں میں نا کام دہشت گرد حملے کئے جس کے نتیجے میں نہتے بے گناہ معصوم شہریوں کے شہید اور متعدد افراد کے زخمی ہونے اور خواتین کے استحصال، زبردستی ذہنی دبائو اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی مذموم کوششوں کابلوچستان صوبائی اسمبلی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔یہ ایوان واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ دہشت گردی کی یہ بزدلانہ کارروائیاں صوبہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش ہے اور قوم ایسی کسی بھی سازش کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گی۔یہ ایوان متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا گو ہے کہ شہدا کی مغفرت فرمائے اور اور ان کے درجات بلند کرے اور زخمیوں کو جلد صحت و تندرستی عطا فرمائے۔یہ ایوان شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور پاکستان کی سالمیت کے تحفظ کے لئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیر متزلزل عزم، بہادری اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جن کی بدولت مذکورہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کا انعقاد ممکن ہوا۔ جس کے نتیجے میں تمام ملک دشمن دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ بلوچستان کے عوام امن، رواداری اور بھائی چارے کے ساتھ دہشت گردی اور تشدد کے خلاف متحد ر ہیں گے اور کسی بھی قیمت پر امن کو سبوتا نہیں ہونے دیں گے ، دہشت گردی کے خلاف جدو جہد میں ریاستی اداروں اور سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی اور امن دشمن عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے ہونے دینگے۔قرارداد پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ حالیہ دنوں بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتا ہوں لیکن یہ امر خوش آئند ہے کہ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے ان کو پسپا کیا دہشتگرد شہریوں کی زندگی کو متاثر کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول ممکن بنانا چاہتے تھے لیکن سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی وجہ سے ان کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے، ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اپنے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، دہشت گردی کا یہ لہر جلد ختم ہوگا ہمارے معاشرے میں دہشت گردوں کا ساتھ دینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ پچھلے ہفتے فتنہ الہندوستان جس طریقہ سے حملہ آور ہوئے اور عام شہریوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا، ان تمام پولیس جوانوں، آفیسران، ایف سی، پاک آرمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جس طریقے سے فتنہ الہندوستان کے آلہ کاروں کو جہنم واصل کیا اور دہشتگردی کے اس جنگ میں ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے امن و امان کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ امن و امان کی صورتحال پر مین اسٹریم میڈیا پر ایک بحث چلی حالانکہ ان کو زمینی حقائق کا ادراک نہیں، جب سے ہمارا حکومت بنی ہے جب سے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے لیڈ لیا ہے نے ہمیشہ ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھا ہے اور ایک بیانیہ دیا ہے کہ یہ بھارت کی پراکسی بن کر امن و امان کو تہہ تیغ کرنے کی کوشش کررہے ہیں 18 ویں ترمیم کے بعد بلوچستان اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ بلوچستان سے متعلق فیصلے کریں، یہ حقوق کی جنگ نہیں ہے معصوم لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا جاتا ہے، فتنہ الہندوستان جن کے پراکسیز بن کر کھیل رہے ہیں اب لوگ جان چکے ہیں کہ یہ بلوچستان کے حقوق کی جنگ نہیں ہے بلوچستان کا مسئلہ اگر سیاسی ہے تو وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس فورم پر کئی بار مذکرات کی دعوت دی ہے بلوچستان میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو بلاول بھٹو زرداری نے لاپتہ افراد سے متعلق قانون سازی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک شخص کی جنگ نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر بچے مرد بوڑھے ہر پڑھے لکھے فرد کی جنگ ہے، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیچھے بھارت سمیت وہ دشمن عناصر ہیں جنہیں پاکستان کی ترقی کھٹک رہی ہے، صوبائی حکومت بلوچستان میں میرٹکروسی کو فروغ دے رہی ہے ترقی منصوبوں کے ساتھ گورننس پر توجہ دے رہے ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی میر زابد علی ریکی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی وجوہات معلوم کرنے کی ضرورت ہے ہمیں سب کو بیٹھا کر ایک دوسرے کی بات سننا چاہیے، ہمیں آپس میں مشاورت کرکے عوام کے پاس جانا چاہیے۔صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے کہا کہ بلوچستان ایسی جنگ کا سامنا کررہا ہے جو گولی و بارود کی نہیں بیانیہ کی بھی جنگ ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ملک و قوم کیلئے دہشتگردی کا سامنا کیا لیکن کبھی بھی پاکستان و عوام کیلئے پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے بڑھتے رہے، دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں بندوق زر و زور پر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، کالعدم تنظیم بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جنہوں نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ عام شہریوں کا قتل عام کیا ہے ہم چاہتے ہیں بلوچستان کے جوان غلط راستے پر گئے ہیں وہ واپس آئے چمن بارڈر کب سے بند ہے کیا انہوں نے بندوق اٹھایا، انڈیا کا بارڈر بند ہے پنجاب میں بے روزگاری ہے تو کیا وہ بندوق اٹھائیں، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں دہشتگردوں کو بھرپور طریقے سے جواب دیا جائے گا۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں ایک بہادر وزیر اعلی ہی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے، عوام کے ووٹ کی پرچی سے ہی تبدیلی آتی ہے وہ دن دور نہیں جب بلوچستان امن کا گہوارہ بنے گا اور لوگوں کو روزگار میسر ہوگا۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ 31 جنوری کے دن دہشتگردی کے واقعات ہوا ان کی مذمت کرتے ہیں اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے چاہیے جس بھی شکل میں ہوں شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ بندوق کے زور پر کسی علاقے کو آزاد نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 2 لاکھ 80 ہزار نوجوان منشیات کی لعنت میں مبتلا ہیں ہمیں ملک و قوم کی بہتری کیلئے سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جب یہاں سردار اختر مینگل اور نواب اکبر بگٹی وزیر اعلی تھے تب بھی یہی حالات تھے دہشتگردی کا خاتمہ جلد ہوگا ہمیں دہشتگردی کی مذمت کرنی چاہیے۔ دہشتگردی کے اس جنگ میں ہمارے پولیس، ایف سی اور آرمی کے جوان شہید ہو رہے ہیں بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے یہاں ایک ایم پی اے کے حلقے میں 30 ارب روپے کا کام جاری ہے دہشتگردوں نے مزدوروں کو بھی نشانہ بنایا ہے وہ تو فورس سے نہیں تھے۔ ہمیں اپنے اداروں کی دفاع کرنا چاہیے۔ رکن صوبائی اسمبلی میر غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ درپیش چیلنجوں کا ادراک کرکے ہی مشکلات سے نجات پا سکتے ہیں۔ وزیر اعلی بلوچستان کی مشیر مینا مجید بلوچ نے کہا کہ 31 جنوری کو دہشت گردی کے واقعات میں جام شہادت نوش کرنے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوں وقت آچکا ہے چیزیں بڑی واضح ہیں یہ قومی جنگ نہیں بلکہ فتنہ الہندوستان کی پراکسی کے طور پر بلوچستان کی سر زمین کو خونریز بنانا چاہتے ہیں ہسپتال، تعلیمی اداروں شہریوں پر حملے حقوق نہیں بلکہ پراکسیز کا کام ہے، ہمیں ایک راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور یہاں کی قوم پرست ننگ و ناموس کی بات کرتے ہیں لیکن دہشتگردی میں خواتین کے استعمال پر کوئی نہیں بولتا ہمیں نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ یہ دہشتگرد آپ کو حقوق نہیں دلا سکتے، نوجوان کی ایک منظم طریقے سے ذہن سازی کرکے گمرہ کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں یہ سنجیدہ موضوع ہے ہمارے ممبران حقائق سے چشم پوشی کرکے کسی اور رخ کی جانب چلے گئے دہشت گردی کے خلاف کام شہادت نوش کرنے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں یہ حقوق کی جنگ نہیں ہے بھارت کی پراکسی کے طور پر ملک و قوم کے خلاف بندوق اٹھانے والے حقوق حاصل نہیں کر سکتے، حقوق کی جنگ کیلئے فورم موجود ہے یہ ایوان پورے صوبے کے عوام کی نمائندگی کررہی ہے کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو توڑ سکیں پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ رکن اسمبلی شیخ زرک خان مندوخیل نے 31 جنوری کو بلوچستان اور اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہادری کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا بھارت پر واضح کرتے ہیں کہ بھارت کا خواب پورا نہیں ہوگا ہم نے بھارتی حملے کا جواب دیا تھا اگر حملہ کرتے تو بھارت نیست و نابود ہوتا۔ رکن اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے پاکستان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشت گردی کا شکار ہے باچا خان کا فلسفہ عدم تشدد کا تھا جنہوں نے انگریز کے خلاف عدم تشدد کا راستہ اپنا کر جہدوجہد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس کے جوان بہادری کے ساتھ لڑے بلوچستان کے منتخب نمائندوں کو سننا چاہیے۔ ایوان نے متفقہ طور پر مشترکہ قرار داد منظور کر لی۔ بعدازاں بلوچستان اسمبلی کااجلاس 20فروری بروز جمعہ سہ پہر3بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔
Comments 0