عورت فائونڈیشن اور یواین وومن کے تعاون سے نوجوان خواتین وکلا کی پیشہ ورانہ رہنمائی اور بااختیاری کے لیے تربیتی سیشن کا انعقاد

عورت فائونڈیشن اور یواین وومن کے تعاون سے نوجوان خواتین وکلا کی پیشہ ورانہ رہنمائی اور بااختیاری کے لیے تربیتی سیشن کا انعقاد
عورت فائونڈیشن نے یو این وومن اور جرمن سفارتِ خانہ کے تعاون سے نوجوان خواتین وکلا کے لیے ایک جامع، معلوماتی اور تربیتی سیشن کا انعقاد کیا، جس کا مقصد قانونی پیشے میں نوجوان خواتین کی رہنمائی، پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ، کیریئر کے عملی راستوں سے آگاہی، اور ایک مضبوط و بااعتماد نیٹ ورک تشکیل دینا تھا۔ یہ سیشن کوئٹہ چیمبر آف کامرس میں منعقد ہوا، جس میں نوجوان خواتین وکلا نے بھرپور تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے سیشن کو نہایت مفید اور معلوماتی قرار دیا اور اسے اپنے پیشہ ورانہ سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔اس سیشن کا بنیادی مقصد نوجوان خواتین وکلا کو عدلیہ میں شمولیت کے تمام مراحل، تقرری کے معیار، وکالت کے میدان میں پیش آنے والے چیلنجز، قانونی پیشے کی تکنیکی نوعیت، اور عدالتوں میں عملی کام کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا تھا۔ ساتھ ہی Mentorship، رہنمائی، نیٹ ورکنگ، قانونی مہارتوں کے فروغ، صنفی انصاف، اور خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کے عملی اطلاق پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس ضمن میں ماہرین نے قانونی پیشے میں خواتین کی شمولیت کے اہم پہلوں، ان کی پیشہ ورانہ ترقی کی ضرورت، اور انصاف کے نظام میں صنفی حساسیت اور شمولیت کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔سیشن کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈائریکٹر بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی، امین اللہ کاسی نے اپنے خطاب میں عورت فائونڈیشن کی کاوشوں کو سراہا اور نوجوان خواتین وکلا کی بڑی تعداد میں شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین قانونی پیشے میں اپنی ذمہ داریوں اور کردار کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت نہ صرف انصاف کے نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ ایک شمولیتی اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔عورت فاونڈیشن کی پروجیکٹ کوارڈینیٹر یاسمین مغل نے شرکا کو صنفی برابری پروجیکٹ کا تفصیلی تعارف کروایا۔ پروفیسر فائزہ میر نے اپنے سیشن میں قانونی پیشے میں Mentorship، مثر رہنمائی، مضبوط پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کے طریقوں، اور عدالتی و قانونی ماحول میں اپنی جگہ بنانے کے مثر طریقوں پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے نوجوان خواتین وکلا کو پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مضبوط رابطے، رہنمائی کے مواقع، اور بااعتماد شخصیت اور پریکٹس کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی۔ایڈووکیٹ کامران ڈومکی نے عدلیہ میں تقرری کے طریقہ کار، قابلیت کے معیار، اصول و ضوابط، انٹرویو کے مراحل، اور عدالتی نظام میں شمولیت کے عملی راستوں پر جامع گفتگو کی۔ انہوں نے وکالت کے آغاز سے لے کر کورٹ روم پریکٹس، کیس تیار کرنے، دلائل پیش کرنے، اور عدالت میں پیشی کے آداب تک تمام مراحل کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا، جسے شرکا نے بے حد معلوماتی اور رہنما قرار دیا۔محمد عرفان نے قانونی پیشے میں جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے مثر استعمال پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح AI ٹولز GBV کیسز میں تحقیق، ڈرافٹنگ، قانونی فیصلوں کے تجزیے اور کیس کی تیاری میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ شرکا نے اس موضوع میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اسے مستقبل کی قانونی پریکٹس کا اہم جزو قرار دیا۔جینڈر ایکسپرٹ فوزیہ شاہین نے بلوچستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین، ان قوانین پر عملدرآمد، متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار، اور صنفی انصاف کے نظام میں پائی جانے والی رکاوٹوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے لیے عدالتی نظام کو محفوظ، قابلِ رسائی اور صنفی لحاظ سے حساس بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔سیشن کے دوران نوجوان خواتین وکلا نے رول پلے، عملی مشقوں اور سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے اپنے تجربات، مسائل، پیشہ ورانہ رکاوٹوں، عدالتی ماحول میں درپیش مشکلات اور ان کے حل کے طریقوں پر کھل کر گفتگو کی۔ شرکا نے کہا کہ اس سیشن نے نہ صرف انہیں عدلیہ میں شمولیت، پیشہ ورانہ ترقی، اور نیٹ ورکنگ کے نئے راستوں سے آگاہ کیا بلکہ ان کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہیں قانونی پیشے میں درپیش رکاوٹوں سے نمٹنے کے مثر طریقے سیکھنے کو ملے، اور اس سیشن نے انہیں قائدانہ کرداروں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔شرکا نے عورت فانڈیشن اور UN Women کا شکریہ ادا کرتے ہوئے درخواست کی کہ اس طرح کے تربیتی سیشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے، کیونکہ یہ پروگرام نوجوان خواتین وکلا کو مضبوط، بااختیار اور پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کے قابل بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف قانونی شعبے میں خواتین کی نمائندگی بڑھاتی ہیں بلکہ انہیں عدلیہ، پروسیکیوشن اور دیگر قانونی اداروں میں قائدانہ مقام تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.