اسلام آباد (اے پی پی):کوئٹہ میں گردوں کے ہسپتال کے قریب فلائی اوور کی تعمیر کے خلاف آئینی عدالت میں پہلی عوامی مفاد کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست تقویم حسین شاہ نے حافظ احسان احمد کھوکھرایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے جس میں آئین کے آرٹیکل 175-ای(3) کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ درخواست میں آئین کے حصہ دوم میں دیے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق آئینی دائرہ اختیار کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سمونگلی روڈ پر فلائی اوور کی تعمیر محض ہسپتال کے قریب نہیں بلکہ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی کی زمین اور عملی حدود کے اوپر کی جا رہی ہے جس سے ایمبولینس کی آمد و رفت، ہنگامی رسائی، ڈائیلاسز کے شیڈول اور انتہائی نگہداشت کی سہولیات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ بھاری مشینری کی نقل و حرکت، گرد و غبار، شور، ارتعاش اور ہنگامی راستوں میں رکاوٹ سے انفیکشن کنٹرول، آئی سی یو آپریشنز اور ایمرجنسی رسپانس کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔درخواست کے مطابق یہ منصوبہ مسلسل اور جاری نوعیت کا ہے اور اس کی تکمیل تک مریضوں، طبی عملے اور ہسپتال کی بلا تعطل فعالیت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی پورے صوبے خصوصاً ژوب، لورالائی، تربت، گوادر، خضدار اور مکران ڈویژن کے دور دراز علاقوں سے آنے والے ہزاروں مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے، اس لیے ہسپتال کے نظام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست کمزور اور جان لیوا امراض میں مبتلا افراد کو متاثر کرتی ہے ۔درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل اسپتال انتظامیہ نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں سے عبوری ریلیف ملا، تاہم مبینہ دباؤ کے نتیجے میں 10 دسمبر 2025 کو یہ کیس واپس لے لیا گیا۔درخواست کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے فلائی اوور کے بجائے انڈر پاس کی تعمیر کی متبادل تجویز بھی دی تھی۔اس مقدمے میں حکومتِ بلوچستان اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو فریق بنایا گیا ہے۔
Comments 0