افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی، بلال اظہر کیانی

افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی، بلال اظہر کیانی
لاہور (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ ہر ممکن حد تک سفارتی سطح پر معاملات طے کرنے کی کوشش کی تاہم بدقسمتی سے سرحد پار دہشت گردی نہ رک سکی۔ وہ اتوار کے روز”جمہوریت اور قانون کی حکمرانی” کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے آخری سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان کا واضح موقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ گزشتہ برس اعلیٰ سطح کے وفود افغانستان جاتے رہے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کو روکا جا سکے مگر اس میں کامیابی نہ مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو افغانستان سے سہولت کاری فراہم کی جاتی رہی، جس کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشت گردی کسی سفارتی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے مطلوبہ سنجیدگی کا فقدان رہا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ہر ریاست کو اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق حاصل ہے، اسی لیے پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے افغان حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کو مضبوط کرنے پر خرچ ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف آپریشنز میں مارے جانے والے متعدد دہشت گرد افغان شہری تھے اور اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغان شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور کھلے دل سے ان کی مدد کی، مگر موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ کوئی بھی ملک بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان میں امن اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.