"چمن دھرنا اور صحافت کا بحران"

"چمن دھرنا اور صحافت کا بحران"
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری دھرنے نے نہ صرف مقامی عوام کو متاثر کیا ہے بلکہ صحافیوں کے لیے بھی ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے۔ احتجاجی مظاہرین سرحدی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، مگر مقامی صحافی دباؤ دھمکیوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کھل کر رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں۔ دو طرفہ دباؤ میں صحافی چمن پریس کلب کے صحافی کہتے ہیں کہ وہ ایک عجیب صورتِ حال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر وہ دھرنے کی کوریج کرتے ہیں تو حکومت اور ادارے انہیں ہراساں کرتے ہیں، اور اگر وہ خاموش رہیں تو دھرنے کے شرکاء ان پر جانبداری کے الزامات لگاتے ہیں۔ ایک مقامی رپورٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:"ہمارا کام خبر دینا ہے مگر یہاں خبر دینا جرم بن گیا ہے حکومت چاہتی ہے کہ دھرنے کو نمایاں نہ کریں اور مظاہرین چاہتے ہیں کہ ہر لمحہ نشر کریں اس دباؤ میں صحافت کرنا تقریبا ناممکن ہوگیا ہے۔" پریس کلب کی بندش مظاہرین کی ناراضگی اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے کئی بار چمن پریس کلب کو تالہ لگا دیا ان کا موقف ہے کہ صحافی ان کی آواز دنیا تک نہیں پہنچا رہے پریس کلب کی یہ بندش صرف ایک عمارت کے بند ہونے کا واقعہ نہیں بلکہ یہ اس احساس کی عکاسی ہے کہ عوام اور میڈیا کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے مسائل اجاگر کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنی جان اور خاندان کی حفاظت بھی عزیز ہے صحافت کے لیے خطرناک ماحول بلوچستان طویل عرصے سے صحافیوں کے لیے خطرناک خطہ مانا جاتا ہے یہاں مسلح گروہ، حکومت اور انتظامیہ سبھی میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں چمن کا دھرنا اس دباؤ کی تازہ مثال ہے۔ ایک جانب عوام مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور میڈیا پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ کوریج کرے دوسری طرف ادارے کسی بھی رپورٹ پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔ ایک سینئر صحافی نے کہا "ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ ایک طرف عوام کا دباؤ ہے جو ہمیں اپنا ساتھی نہ سمجھنے پر ناراض ہو جاتے ہیں دوسری طرف حکومت ہے جو خبر دینے پر ہمیں دشمن سمجھتی ہے ایسے میں سچ بولنا سب سے بڑا جرم لگتا ہے۔"خبر دینا یا خاموش رہنا چمن کے صحافیوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ خبر دیں یا نہیں اگر خبر دیتے ہیں تو خطرہ ہے کہ انہیں نوکری سے نکالا جائے ہراساں کیا جائے یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ اگر خبر نہیں دیتے تو عوام اور دھرنے والے انہیں دشمن سمجھتے ہیں۔اس دوغلی صورتِ حال نے مقامی صحافیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے کئی رپورٹرز نے چمن میں فیلڈ رپورٹنگ کم کر دی ہے اور بعض نے صحافت ہی چھوڑنے کا سوچا ہے۔ *صحافت کی آزادی پر سوالیہ نشان* چمن کے دھرنے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بلوچستان میں آزاد صحافت ممکن بھی ہے یا نہیں۔ جب صحافیوں پر دو طرفہ دباو ہو جان کے خطرات ہوں اور پریس کلب بند کیے جائیں تو کیا کوئی صحافی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کر سکتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ میڈیا کی آزادی صرف نعرہ بن کر رہ گئی ہے عملی طور پر بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں صحافی اپنی مرضی سے رپورٹنگ نہیں کر سکتے۔ *قومی میڈیا کی بے رخی* مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی میڈیا ان کے احتجاج کو نظر انداز کر رہا ہے اسلام آباد اور کراچی کے بڑے چینلز پر چمن کے عوامی مسائل کو جگہ نہیں ملتی یہ خلا مقامی صحافیوں پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے کیونکہ عوام ان ہی کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ *مستقبل کی خدشات* چمن کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو خطے میں صحافت مزید سکڑ جائے گی ایک رپورٹر نے کہا۔ یہ صرف چمن کا مسئلہ نہیں، یہ بلوچستان کے ہر صحافی کا مسئلہ ہے۔ اگر آج ہماری آواز دبائی گئی تو کل کوئی بھی آزاد صحافت نہیں کر سکے گا۔" *نتیجہ* چمن کا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری دھرنا عوامی محرومی کی علامت ضرور ہے، مگر اس نے صحافیوں کی مشکلات کو بھی اجاگر کیا ہے دھرنے کے شرکاء اپنی آواز میڈیا تک پہنچانا چاہتے ہیں جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ آواز دبی رہے اس دو طرفہ دباؤ میں مقامی صحافی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پریس کلب کی بندش رپورٹنگ پر پابندیاں اور صحافیوں کی بے بسی اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان میں آزاد صحافت اب بھی خواب ہے سوال یہ ہے کہ اگر صحافی ہی خوف اور دباؤ میں خاموش ہو جائیں تو عوام کی آواز کون بنے گا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.