کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے تحت شامل سیاسی جماعتوں کی حمایت سے شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ ہڑتال کی اپیل پاکستان تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے کی گئی، جس پر شہریوں کی بڑی تعداد نے عمل کیا۔کوئٹہ شہر کی اہم شاہراہیں، بازار، تجارتی مراکز اور کاروباری علاقے سنسان منظر پیش کر رہے ہیں۔ بیشتر دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ سینٹرز اور نجی کاروبار مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، بسیں، کوچز اور رکشہ سروس بھی معطل رہی، جس کے باعث شہریوں، ملازمین اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہڑتال کے باعث تعلیمی اداروں میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی، تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان میں شامل جماعتوں کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال کا مقصد آئین کی بالادستی، جمہوری حقوق کے تحفظ اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔ رہنمائوں نے مقف اختیار کیا کہ ملک میں آئینی اصولوں سے انحراف، سیاسی عدم استحکام اور عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔اندرونِ بلوچستان بھی مختلف شہروں اور قصبوں میں ہڑتال کے اثرات واضح رہے۔ خضدار، مستونگ، قلات، پشین، ژوب، لورالائی، چمن، تربت اور دیگر اضلاع میں کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ بعض علاقوں میں کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر پرامن احتجاج کیا اور آئین کی بالادستی کے حق میں نعرے لگائے۔سیکیورٹی کے حوالے سے کوئٹہ اور دیگر حساس علاقوں میں پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری تعینات کی گئی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی مشترکہ اپیل پر عوامی ردعمل نمایاں ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس احتجاج کے سیاسی اثرات اور حکومت کی جانب سے ردعمل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
Comments 0