کوئٹہ میں سڑکوں کی بندش: شہری زندگی کا مفلوج نظام

کوئٹہ میں سڑکوں کی بندش: شہری زندگی کا مفلوج نظام
کوئٹہ اس وقت سڑکوں کی بندش اور شدید ٹریفک جام کے ایسے بحران سے دوچار ہے جو محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ شہری زندگی کے ہر پہلو پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ شہر کی مرکزی شاہراہوں، چوراہوں اور رابطہ سڑکوں پر آئے روز رکاوٹیں، کنٹینرز، کھدائیاں اور سیکیورٹی بندوبست نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ تعلیمی اداروں، دفاتر، اسپتالوں اور کاروباری مراکز تک رسائی ایک امتحان بن چکی ہے، جبکہ شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنس کر ذہنی کوفت اور معاشی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ سڑکوں کی بندش کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات، وی آئی پی موومنٹ، ترقیاتی کاموں میں عدم منصوبہ بندی اور متبادل راستوں کا فقدان ہے۔ بظاہر یہ اقدامات وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر عملی طور پر یہ مستقل مسئلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ سیکیورٹی کے نام پر مرکزی شاہراہوں کو بند کر دینا، بغیر پیشگی اطلاع کے راستوں کو محدود کرنا اور ٹریفک پلان کا نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہری سہولت کو ترجیحی فہرست میں کہیں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ ٹریفک جام کا سب سے بڑا نقصان ایمرجنسی سروسز کو پہنچ رہا ہے۔ ایمبولینسوں کا بروقت اسپتال پہنچنا مشکل ہو چکا ہے، مریضوں اور ان کے لواحقین کی اذیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آگ بجھانے اور دیگر ہنگامی ادارے بھی تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کا ضیاع، فضائی آلودگی میں اضافہ اور شہریوں کے اعصاب پر مسلسل دباؤ ایک الگ المیہ بن چکا ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ کوئٹہ جیسے اہم صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک مینجمنٹ کے لیے کوئی جامع، مؤثر اور دیرپا حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ ترقیاتی منصوبے شروع تو کر دیے جاتے ہیں مگر ان کی تکمیل کے دوران شہری نقل و حرکت کو متبادل سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔ سڑکیں مہینوں کھلی رہتی ہیں، مٹی، گردوغبار اور ٹوٹ پھوٹ شہریوں کے لیے مستقل عذاب بن جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے محض عارضی حل کے بجائے سنجیدہ اور مربوط پالیسی اختیار کریں۔ سیکیورٹی اور شہری سہولت میں توازن ناگزیر ہے۔ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ، پیشگی ٹریفک پلان، واضح سائن بورڈز اور متبادل راستوں کی بروقت نشاندہی اس مسئلے کو کافی حد تک کم کر سکتی ہے۔ شہریوں کی آواز سننا اور انہیں اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے۔ سڑکوں کی بندش سے قبل عوام کو آگاہی دینا، اوقات کا تعین اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ ایک ذمہ دار حکومت کی پہچان ہے۔ کوئٹہ کے شہری مزید آزمائش کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ صرف ٹریفک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شہری نظم و ضبط اور ریاستی اعتماد کو بھی نقصان پہنچائے گا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.