کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مقتدرہ کی استعماری منصوبہ بندی کے تحت 25 کروڑ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے ملک دشمن اور عوام دشمن اقدام کی پارٹی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور 8 فروری کو پاکستان کی 78 سالہ تاریخ کا بدترین سیاہ دن قرار دیتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے عوام کی جانب سے فارم 45 پر منتخب اور کامیاب ہونے والے امیدواروں کو فارم 47 کے ذریعے ناکام بنانے کے لیے جس منظم، کھلی اور شرمناک انتخابی دھاندلی کا سہارا لیا گیا، اس کی مثال نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی جمہوری تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ ان تمام عوام دشمن اقدامات کا واحد مقصد قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر مقتدرہ (سٹیبلشمنٹ) کی بالادستی قائم رکھنا تھا تاکہ عوامی نمائندگی کو بے اثر اور پارلیمانی نظام کو کھوکھلا کیا جا سکے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پشتونخوا نیپ کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کو قومی اسمبلی کے حلقہ NA-251 ژوب، قلعہ سیف اللہ، کم شیرانی اور NA-265پشین میں ووٹوں کی واضح برتری حاصل ہے، اور الیکشن کمیشن کے مرتب کردہ نتائج کے مطابق وہ دونوں حلقوں میں واضح طور پر کامیاب قرار پاتے ہیں۔ اس کے باوجود مقتدرہ کی مداخلت کے باعث اب تک ان کی کامیابی میں دانستہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، جو انتخابی عمل اور آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملک کی قوموں اور جمہوری قوتوں نے طویل قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد 18ویں آئینی ترمیم کی صورت میں صوبائی خودمختاری، جمہوری حکمرانی اور سماجی عدل و انصاف کے لیے جو حقوق اور اختیارات حاصل کیے تھے، انہیں مقتدرہ کی سرپرستی میں قائم غیر نمائندہ پارلیمان نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عملاً ختم کر دیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اس ملک کی عدلیہ ایک ماتحت ادارہ بن چکی ہے جبکہ میڈیا مقتدرہ کی ترجمانی پر مامور ہے۔ ملک پر عملاً ون یونٹ طرز کا ایک آمرانہ نظام مسلط ہے جس میں داخلہ اور خارجہ پالیسی کے تمام اختیارات مقتدرہ کے پاس ہیں، اور ملک کے قدرتی و مالی وسائل پر ایک بالادست قوم کا مکمل کنٹرول قائم ہے۔ ان حالات میں پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور دیگر محکوم اقوام کے ساتھ ساتھ ملک کے محنت کش عوام کی قومی محکومی اور معاشی تباہ حالی ایک اذیت ناک صورتِ حال اختیار کر چکی ہے۔ عوام کی اکثریت غربت، بے روزگاری، بدامنی اور عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ ان کی آواز کو ریاستی جبر کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔ پشتونخوا نیپ کے بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ملک کے محکوم اور محنت کش عوام کی نمائندہ جمہوری قوتوں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ ایک وسیع، متحد اور جمہوری محاذ قائم کریں، جو اس ملک میں ایک نئے عمرانی معاہدے کے لیے منظم تحریک چلائے۔ اس معاہدے کی بنیاد 1940 کی قرارداد کی اصل روح پر ہونی چاہیے، جس کے تحت پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی قوموں پر مشتمل خودمختار اور بااختیار قومی وفاقی وحدتوں کی ایک جمہوری فیڈریشن قائم کی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی جمہوری فیڈریشن میں قومی اسمبلی کے اندر وفاقی وحدتوں کو برابر نمائندگی حاصل ہو، جبکہ مسلح افواج اور تمام وفاقی اداروں میں بھی مساوی شراکت اور برابری کا حق یقینی بنایا جائے، تاکہ اس ملک میں مقتدرہ کی مسلط کردہ آمرانہ اور استحصالی بالادستی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ آخر میں بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف اسی صورت میں پاکستان کے تمام اقوام و عوام کے لیے خوشحال، پُرامن، جمہوری اور ترقی یافتہ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
Comments 0