عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی نے کہاہے کہ ہم مظلوم قوموں میں آتے ہیں۔ لاہور کے نصیب میں خوشی اور ہمارے نصیب میں غم ہیں، یہ ماننا پڑے گا۔ اس ملک کے ایک ہی صوبے میں امن، آئین، قانون اور ترقی ہے۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کیلئے پنجاب پاکستان ہے اور پاکستان پنجاب ہے۔ تمام تر زخموں کے باوجود ہم پنجاب کے بھائی، بہنوں اور بزرگوں کو بسنت کی مبارکباد دیتے ہیں۔ یہ پختون قوم اور بالخصوص پشاور کی بدقستمی ہے کہ حاجی غلام احمد بلور جیسی قد آور شخصیت اس شہر کو الوداع اور پارلیمانی سیاست کو خیر آباد کہہ رہا ہے۔ حاجی غلام احمد بلور ہمارے بزرگ ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں۔ ان سے سیکھنے کو ابھی بہت کچھ ملے گا۔تمام قومیتوں کو اپنے تاریخی تہوار فخر سے منانے چاہیئے۔ نوروز ہو، بسنت ہو یا اور کوئی تہوار، بالکل منانے چاہیئے، اس میں کوئی برائی نہیں۔ بلوچستان میں حالیہ واقعات ریاست ہی کی کمزوری ہے۔ ایک ہی وقت میں 12 مختلف جگہوں پر حملہ اتنی چھوٹی بات نہیں جتنی چھوٹی اس کو حکومت اور ریاست بنا رہی ہے۔ یہ انٹیلجنس کی ناکامی ہے۔ دہشتگردی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا، لیکن دہشتگردی کی آڑ میں عوام کو محروم رکھنے سے بھی مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پہلے عوام کی محرومیاں ختم کی جائیں اور انکے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ پختونخوا اور بلوچستان کے سیکیورٹی مسائل بارے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
Comments 0