سابق نگران صوبائی وزیر جان اچکزئی نے کہاہے کہ پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان دلچسپ کشمکش جاری ہے۔ یہ گروہ پاکستان کے خودمختار علاقوں پر ایسے دعوے کرتے ہیں جیسے یہ ان کی ذاتی ملکیت ہو۔ کوئٹہ کو وہ ایسے پیش کرتے ہیں جیسے کوئی پلاٹ ہو جسے کل فروخت کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ ایک بڑا پاکستانی شہر ہے، جو کسی قوم پرست، علیحدگی پسند یا دہشت گرد کی ذاتی ملکیت نہیں۔ پاکستان کے ہر شہری کو وہاں آباد ہونے اور پُرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
قوم پرستوں کی منافقت بھی واضح ہے۔
یہ وفاقی حکومت سے حقوق مانگتے ہیں، اکثر پنجاب کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن خود کسی غیر بلوچ کو وزیراعلیٰ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ رویہ دراصل طاقت پر اجارہ داری قائم کرنے کی ذہنیت ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی بدولت دیگر قومیں بلوچستان اور دوسرے صوبوں میں رہ سکتی ہیں، ورنہ یہ قوم پرست گروہ بلوچستان کے اندر نسلی گھیٹوز بنا لیتے۔
ان کا محرومی کا بیانیہ دراصل ریاست کو بلیک میل کرنے اور اپنے چھوٹے قبائلی حلقوں کے لیے وسائل ہتھیانے کا حربہ ہے۔ ان کا "اصلی قیادت" کا دعویٰ بھی ایک فریب ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی ہی قوم کے متوسط طبقے، غیر نسلی سیاستدانوں اور محب وطن پاکستانیوں کو باہر رکھتے ہیں۔
یہ لوگ کثرتیت (diversity) اور (multipolarity) تنوع پر یقین نہیں رکھتے۔
یہ بائیں بازو کے قدامت پسند ملّا ہیں، جو جمہوری شراکت کو برداشت نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقہ اسٹیبلشمنٹ کو ایک متوازی طاقت کے مرکز کے طور پر دیکھتا ہے، تاکہ وہ ان طاقتور قوم پرست سرداروں اور نوابوں کے مسلح نیٹ ورکس، دولت اور اثر و رسوخ سے محفوظ رہ سکے۔
یہ اتنے طاقتور ہیں کہ دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی متوسط طبقے کے سیاستدانوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں، تاکہ اپنی سیاسی اجارہ داری کو بچا سکیں۔
ان کے مگرمچھ کے آنسو اور مظلومیت کا کارڈ دراصل ان کی جاگیروں اور فئیف ڈومز کے تحفظ کا ہتھیار ہے، جہاں نہ جمہوریت چلتی ہے اور نہ کوئی چیلنج برداشت کیا جاتا ہے۔
اسی لیے بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،
تاکہ یہ مرکز گریز قوتوں، سرداروں، نوابوں اور نام نہاد جمہوری زمینداروں کے خلاف توازن قائم کرے۔ بدقسمتی سے میڈیا، بائیں بازو اور اسلام آباد کے طاقتور حلقے ان کے نیٹ ورک اور اثر و رسوخ کے باعث انہیں مسلسل سہارا دیتے ہیں، اور یوں متوسط طبقے سے ابھرنے والی ہر قیادت کو کچل دیا جاتا ہے
Comments 0