عمران خان نے خود پمز میں پروسیجر کی خواہش ظاہر کی، اعظم نذیر تارڑ

عمران خان نے خود پمز میں پروسیجر کی خواہش ظاہر کی، اعظم نذیر تارڑ
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں کہا کہ عمران خان کا پروسیجر اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں بھی ہو سکتا تھا لیکن عمران خان نے خود پمز میں پروسیجر کی خواہش ظاہر کی، عمران خان نے خود کہا کہ اگر امن و امان کا مسئلہ ہو تو انہیں شام کے وقت لے جایا جائے،ساٹھ سال کے بعد یہ ایک عام مسئلہ ہوتا ہے اور عمران خان 74 سال کے ہیں، ایک انجیکشن لگتا ہے جو بہت سے لوگوں کو لگتا ہے،پمز کے ڈاکٹرز نے معائنہ کر کے بتایا کہ پیش رفت اچھی ہے،انہوں نے کہا کہ انڈر ٹرائل قیدی کی کسٹڈی ٹرائل کورٹ کے پاس ہوتی ہے جبکہ اپیل میں موجود مجرم اپیلیٹ کورٹ کی کسٹڈی میں ہوتا ہے، ایک جیل سپرنٹنڈنٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس بھی اختیار موجود ہے، وزیر قانون نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سے قبل انہیں آنکھ کا فالج ہوا تھا اور وہ لاہور سے آغا خان ہسپتال جا رہے تھے لیکن مجسٹریٹ نے جوڈیشل ریمانڈ دے دیا اور انہیں شدید گرمی میں جیل رکھا گیا کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم نے سخت بیانات دیے اور علاج تک رسائی نہیں دی گئی، میرے وزیر اعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو علاج یا ڈاکٹرز تک رسائی نہ دی جائے، موجودہ وزیر اعظم انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں، عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، ان کا پروسیجر کامیاب رہا اور انہیں انجیکشن لگایا گیا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.