کراچی (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی سندھ کراچی کے زیرِ اہتمام ایمپریس مارکیٹ صدر میں منعقدہ عظیم الشان جلسۂ عام سے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور سیکریٹری جنرل خورشید کاکا جی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس تاریخی اور شاندار جلسے کے انعقاد پر وہ پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے غیور پشتون عوام نے بھرپور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے۔ جلسۂ عام سے پارٹی کے سندھ کے صوبائی صدر سید محمد صدیق آغا، جنوبی پشتونخوا کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان، نظام خان کاکڑ، پشتونخوا ایس او سندھ کے آرگنائزر محبوب خان مندوخیل اور یونس خان کاکڑ ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض شفیع ترین اور عبدالخالق نے سرانجام دیے۔ قراردادیں لطیف خان نے پیش کیں جنہیں جلسۂ عام نے ہاتھ اٹھا کر منظور کیا۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت محمد افغان نے حاصل کی۔ جلسے کے دوران پارٹی چیئرمین نے پشتونخوا لائرز فورم کے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا۔ جلسۂ عام میں پشتو کے مشہور انقلابی شاعر عبدالحکیم مشعال اور اجمل خان نے انقلابی اشعار بھی پیش کیے۔ اس سے قبل جب پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور دیگر عہدیداران جلسہ گاہ پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ خطاب میں چیئرمین نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے عوام کے ملی ارمانوں کی تکمیل کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ میں لاکھوں پشتون آباد ہیں، جبکہ کروڑوں کی تعداد میں پشتون مسافری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ پشتونخوا وطن دنیا کے بے شمار وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے، مگر وہاں بدامنی اور دہشت گردی کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں میں بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، صنعتوں کا فقدان اور بجلی کے نظام کی تباہی جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں پشتون عوام کو جان و مال کے تحفظ کے شدید مسائل درپیش ہیں اور پولیس و انتظامیہ کا رویہ بھی پشتونوں کے ساتھ ناقابل برداشت ہے ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ سندھ اور کراچی میں آباد پشتونوں کو تعلیم، روزگار، شناختی کارڈ، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور دیگر بنیادی دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی نام نہاد جنگ میں لاکھوں پشتون جانوں سے گئے اور بے شمار گھر تباہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن قیمتی اور نایاب معدنیات سے مالا مال ہے، جس پر عالمی اور ملکی استحصالی قوتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو تجارت اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیپ پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ پشتونخوا وطن اور پشتون بلوچ مشترکہ صوبے کی موجودہ سنگین صورتحال ملک کے استعماری طرزِ حکمرانی، بالخصوص پنجاب کی استعماری حکمرانوں کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کے سبب حالات دن بدن بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچ، سندھی اور دیگر محکوم اقوام کی پرامن سیاسی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ تاہم غیور پشتون ملت کو شدید تشویش ہے کہ فریقین پشتونخوا وطن کے مختلف شہروں کو اپنے میدان جنگ میں تبدیل نہ کریں کیونکہ ہماری سرزمین پہلے ہی دہشتگردی اور بد امنی کی وجہ سے آگ و خون میں جل رہاہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں قوموں کی برابری، حقیقی جمہوریت اور نئے عمرانی معاہدے پر مبنی سیاسی نظام تشکیل دیا جائے۔ اور کہا کہ وفاق کے پاس صرف چار محکمے ہونے چاہئیں جبکہ باقی تمام اختیارات قومی وحدتوں کو منتقل کیے جائیں۔ انہوں نے ممتاز پشتون قوم دوست رہنما علی وزیر کی سندھ میں مسلسل گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ علی وزیر کی رہائی کے لیے ہمارے ساتھ مل کر جدوجہد میں حصہ لیں۔
Comments 0