پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی مسترد کر دیا

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی مسترد کر دیا
اسلام آباد۔ (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیل کی جانب سے عائد مسلسل پابندیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کیا ہے۔ منگل کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان اقدامات کی بھی مذمت کی جن کے تحت مسلمانوں کو عبادت کے لئے مسجدِ اقصیٰ (الحرم الشریف) تک رسائی سے روکا گیا جبکہ بیت المقدس کے کیتھولک مذہبی پیشوا اور مقدس مسیحی مقامات کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنے والے مذہبی رہنما کو پام سنڈے کے موقع پر چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں عبادت کے انعقاد سے بھی محروم رکھا گیا۔ وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی اسرائیلی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلسل اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ قانونی اور تاریخی حیثیت کو بھی پامال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عبادت گاہوں تک بلا روک ٹوک رسائی کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ وزرائے خارجہ نےبیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف اسرائیل کے غیر قانونی اور محدود کرنے والے اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسیحیوں کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر تک آزادانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں۔ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں اور اس کے مسلم و مسیحی مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ بطور قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس پر کوئی حاکمیت حاصل نہیں۔ وزرائے خارجہ نے مسلسل 30 دن تک بشمول مقدس مہینہ رمضان میں مسجد اقصیٰ ؍ الحرم الشریف کے دروازے بند رکھنے اور عبادت کی آزادی کو محدود کرنے کی مذمت کا اعادہ کیا جسے انہوں نے بین الاقوامی قانون اور موجودہ قانونی و تاریخی حیثیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کےلئے خطرہ ہیں۔ وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ ؍ الحرم الشریف کا پورا علاقہ (144 دونم) صرف مسلمانوں کےلئے عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظام و انصرام کی واحد مجاز اتھارٹی بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہے جو اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے تحت کام کرتا ہے۔ وزرائے خارجہ نے بطور قابض طاقت اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ ؍ الحرم الشریف کے دروازے کھولے، مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں عائد رسائی کی پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد تک پہنچنے سے روکنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالہ سے مضبوط موقف اختیار کرے تاکہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات کو روکنے پر مجبور کیا جاسکے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.