وفاق اور صوبائی حکومت باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کویقینی بنائیں گے، محسن نقوی، میر سرفراز بگٹی

وفاق اور صوبائی حکومت باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کویقینی بنائیں گے، محسن نقوی، میر سرفراز بگٹی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اعلی سطحی اجلاس پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی بھتہ خوری کے خاتمے، اسمگلنگ کی روک تھام اور دیگر اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس میں چیئرمین نادرا، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اور انسپکٹر جنرل فیڈرل کانسٹیبلری نے اپنے اپنے اداروں سے متعلق امور پر جامع بریفنگ دی اور صوبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب، ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری اور امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا اجلاس میں بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا اس ضمن میں پہلے مرحلے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے دو ونگز تعینات کیے جائیں گے جبکہ مجموعی طور پر تقریبا تین ہزار اہلکار صوبے کے مختلف حساس علاقوں میں فرائض سرانجام دیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو مزید فعال اور مثر بنایا جائے گا اس مقصد کے لیے ادارے میں موجود تمام خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے گی تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں اور مقامی سطح پر ادارے کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کے درمیان اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اس سلسلے میں ریاست اور قومی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت بلوچستان کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے، جدید تربیت اور وسائل کی فراہمی کے لیے بھی بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور اس میں قومی اتحاد و یکجہتی بنیادی حیثیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ وہ روزِ اول سے واضح کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں ریاست کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت کی مثر حکمت عملی اور اداروں کے باہمی تعاون کے باعث صوبے میں صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے اور آج بلوچستان میں احتجاج کے نام پر کوئی شاہراہ بند نہیں ہوتی وزیر اعلی نے صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں، مربوط حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے ذریعے دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز کو شکست دی جائے گی اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور صوبائی حکومت باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام، ریاستی عملداری کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے اجلاس میں وفاقی حکام کے علاوہ بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی میر ضیا لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلی عمران زرکون سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.