اسلام آباد (اے پی پی):زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،مالی سال 26ء میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.75 تا 4.75 فیصد کی پہلے سے مقرر کردہ حد میں رہے گی، جاری مالی سال کے بقیہ مہینوں اور مالی سال 27ء کے ابتدائی چند مہینوں میں مہنگائی 7 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظرمیں کمیٹی نے کہاہے کہ مالی سال 26ء کے لیے اہم معاشی متغیرات کا منظرنامہ پہلے لگائے گئے تخمینے کی حد کے اندر ہے تاہم کلی معاشی منظرنامے کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔زری پالیسی کمیٹی کااجلاس پیرکوکراچی میں منعقدہوا۔ اجلاس کے بعدجاری بیان کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے ایندھن کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا،باربرداری اور بیمے کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے سرحد پار تجارت اور سفری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
ان واقعات کی بدلتی نوعیت کے پیشِ نظر کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ تنازعے کی شدت اور دورانیہ دونوں ہی ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے اہم عوامل ہوں گے۔ اس حوالے سے کمیٹی نے دھچکوں کے خلاف معیشت کی مزاحمت بڑھانے میں محتاط زری و مالیاتی پالیسیوں کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ معیشت کے بنیادی اجزا، خاص طور پر مہنگائی اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر و مالیاتی بفرز، 2022 ء کے اوائل میں روس یوکرین جنگ کے آغاز کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورت حال کے حوالے سے کمیٹی کے ابتدائی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 26ء کے لیے اہم معاشی متغیرات کا منظرنامہ پہلے لگائے گئے تخمینے کی حد کے اندر ہے تاہم کلی معاشی منظرنامے کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیان کے مطابق جنوری 2026ء میں مہنگائی بڑھ کر 5.8 فیصد اور فروری میں مزید بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی۔
کرنٹ اکائونٹ نے جنوری 2026ء میں سرپلس ریکارڈ کیا جس کے نتیجے میں سرکاری رقوم کی پست آمد کے باوجود سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں سے زرمبادلہ کی خریداری کا سلسلہ جاری رہا اور 27فروری تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.3 ارب ڈالر ہوگئے، بڑے پیمانے کی اشیاء سازی کے شعبے میں دسمبر 2025 ء میں سالانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جولائی تا دسمبر مالی سال 26ء میں مجموعی اضافہ 4.8 فیصد تک پہنچ گیا۔ مہنگائی کے حوالے سے صارفین کی توقعات اور اعتماد میں بہتری آئی جبکہ کاروباری اداروں کی توقعات فروری میں عمومی طور پر مستحکم رہیں۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی جنوری اور فروری دونوں میں ہدف سے کم رہی جس سے جولائی تا فروری مالی سال 26ء کے دوران مجموعی خسارہ مزید بڑھ گیا۔ امریکی انتظامیہ نے یکساں عالمی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا جس کے عالمی تجارت پر نمایاں مضمرات ہو سکتے ہیں۔
کمیٹی نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پس منظر میں اجناس کی عالمی قیمتوں اور رسدی زنجیر میں تعطل کے منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے شدید غیر یقینی صورت حال کو بھی نوٹ کیا۔ اسی سیاق و سباق میں زری پالیسی کمیٹی نے آج کے فیصلے کو مناسب قرار دیا اور مستقل کوششوں سے ملنے والے قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ساختی اصلاحات کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بیان کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران معاشی سرگرمیاں مضبوط ہوتی رہیں اور بلند تعدداظہاریہ جیسے گاڑیوں کی فروخت، سیمنٹ کی ملکی ترسیل، بجلی کی پیداوار،پٹرولیم مصنوعات کی فروخت (ماسوائے فرنس آئل) میں بلند نمو درج کی گئی۔ حالیہ پالیسی اور ضوابطی اقدامات جن میں مطلوبہ نقد محفوظ کی شرائط اور بینکوں کی جانب سے برآمد کنندگان کے قرضوں پر مارک اپ شرحوں میں کمی اور صنعتی شعبے کے لیے توانائی کے نرخوں میں کمی شامل ہے نے بڑے پیمانے کی اشیاء سازی کے امکانات کو تقویت دی۔ زرعی شعبے میں، گندم کی بوائی کا ہدف بڑی حد تک حاصل ہو چکا ہے اور درکار حالات بدستور موافق ہیں۔ اجناس پیدا کرنے والے شعبوں کے مثبت اثرات کے باعث یہ توقع ہے کہ اس سے خدمات کے شعبے کی تھوک اور خوردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مدد ملے گی۔
ان پیش رفتوں کی بنیاد پر، زری پالیسی کمیٹی یہ توقع کرتی ہے کہ مالی سال 26ء میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.75 تا 4.75 فیصد کی پہلے سے مقرر کردہ حد میں رہے گی تاہم یہ منظرنامہ بالخصوص ابھرتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی پیش رفتوں سے جنم لینے والے خطرات پر منحصر ہے۔ جنوری 2026ء کے دوران جاری کھاتے میں 121 ملین ڈالر کا سرپلس رہا، جس سے جولائی تا جنوری مالی سال 26ء میں خسارے کو 1.1 ارب ڈالر تک محدود رکھنے میں مدد ملی۔ جنوری میں درآمدات کم ہو گئیں جبکہ برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر بڑی حد تک دسمبر کی سطح پر مستحکم رہیں۔ تجارتی خسارے کے خاصے حصے کو مسلسل کارکنوں کی ترسیلات زر کے ذریعے فنانس کیا گیا۔ مالی کھاتے میں جنوری کے دوران خالص سرکاری بیرونی رقوم کا اخراج ہوا جبکہ بیرونی سرمایہ کاری میں معمولی اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ کی مسلسل خریداریوں سے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں اعانت ملی۔ آگے چل کر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بیرونی ماحول پہلے سے زیادہ دشوار ہونے کا امکان ہے تاہم جاری کھاتے کے خسارے کے مالی سال 26ء میں جی ڈی پی کے 0 تا 1 فیصد کی پچھلی تخمینہ شدہ حد میں رہنے کا امکان ہے۔
اس پس منظر میں کمیٹی نے زور دیا کہ منصوبہ بندی کے مطابق سرکاری رقوم کی بروقت موصولی سے سٹیٹ بینک کو آخر جون 2026ء تک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر ہدف کے مطابق 18 ارب ڈالر تک لے جانے میں مدد ملے گی۔ بیان کے مطابق مالیاتی سرگرمیوں کے ڈیٹا سے یکجائی کے تسلسل کی نشاندہی ہوتی ہے جس میں مجموعی توازن سرپلس رہا اور پرائمری سرپلس کم سودی ادائیگیوں کے باعث اخراجات کم ہونے کی وجہ سے گذشتہ برس کی سطح کے قریب رہا۔ تاہم ٹیکسوں کی وصولی معتدل رہی اور جولائی تا فروری مالی سال 26ء کے دوران اس میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا جو سالانہ ہدف کو حاصل کرنے کی مطلوبہ رفتار سے کافی کم ہے۔اس تناظر میں کمیٹی نے بنیاد کو وسیع کرنے کے اقدامات اورڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مالیاتی یکجائی کو جاری رکھنے کی اہمیت اجاگر کی تا کہ مجموعی معاشی استحکام اور پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنایا جا سکے۔ زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد، 20 فروری تک زرِ وسیع (ایم ٹو) کی نمو کم ہو کر 16.0 فیصدرہ گئی جس کی وجہ بینکاری نظام سے خالص میزانیہ قرض گیری میں تیزی سے کمی تھی جبکہ ایم ٹو کی نمو میں خالص بیرونی اثاثوں کا حصہ بڑھ گیا۔
کمیٹی نے غور کیا کہ پست میزانیہ قرض گیری کے ساتھ سی آر آر میں حالیہ کمی کے ذریعے پیدا ہونے والی سیالیت نے نجی شعبے کو زیادہ قرضے فراہم کرنے کی گنجائش پیدا کی ہے جس کے نیتجے میں 20 فروری تک نجی شعبے کے قرضے میں 790 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا جو جاری سرمائے اور معین سرمایہ کاری دونوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ قرضوں میں اضافہ خاص طور پر ٹیکسٹائل، تھوک و خوردہ تجارت اور کیمیکلز کے شعبوں میں دیکھا گیا جبکہ صارفی مالکاری بھی بدستور بڑھتی رہی۔ زیر گردش کرنسی میں اضافہ ہوا جبکہ ڈیپازٹس میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں کرنسی اور ڈپازٹ کا تناسب بڑھ گیا اور زر محفوظ کی نمو میں بھی اضافہ ہوگیا۔ توقع کے مطابق فروری میں عمومی مہنگائی بڑھ کر 7.0 فیصد سالانہ ہو گئی۔
اس کی بڑی وجہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں پست اساسی اثر کے خاتمے کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں میں معین چارجز کی درستگی تھی۔ اسی دوران قوزی مہنگائی بھی بڑھ کر تقریباً 7.6 فیصد ہو گئی۔ زری پالیسی کمیٹی نے جائزہ لیا کہ خوراک کی قیمتوں میں حالیہ سازگار رجحان سے توانائی کی ملکی قیمتوں میں متوقع اضافے کے اثرات کا جزوی ازالہ ہوسکتا ہے، کیونکہ کلیدی اشیاء کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور زرعی پیداوار کے امکانات بھی بہتر ہیں۔
کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مہنگائی کی توقعات کے استحکام اور مہنگائی کے مستحکم ماحول سے توقع ہے کہ ایندھن کی مقامی قیمتوں میں اضافے کے دور ثانی کے اثرات کسی حد تک محدود رہیں گے تاہم کمیٹی نے نشاندہی کی کہ یہ اندازہ نمایاں خطرات بالخصوص بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورت حال سے پیدا ہونے والے خطرات کے ساتھ ساتھ خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور توانائی کے سرکاری نرخوں میں تبدیلی سے مشروط ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان تبدیلیوں اور خطرات کے پیشِ نظر کمیٹی نے تخمینہ لگایا کہ مالی سال 26ء کے بقیہ مہینوں اور مالی سال 27ء کے ابتدائی چند مہینوں میں مہنگائی 7 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔
Comments 0